تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 167
تاریخ احمدیت۔جلد 24۔167 سال 1967ء دوسری جیپ کو امیر مقامی صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب خود ڈرائیو کر کے اس امر کی نگرانی فرمار ہے تھے کہ نظم وضبط برقرار رہے اور پورے راستہ پر دو رویہ کھڑے ہوئے احباب بسہولت حضور کو خوش آمدید کہنے اور حضور کی زیارت سے مشرف ہونے کی سعادت حاصل کر سکیں۔اس کے بعد حضور کی کار تھی اور اس کے عقب میں قافلہ یورپ کے دیگر اراکین کی کاروں کے علاوہ دیگر احباب کی قریباً چالیس کاریں تھی نظم و ضبط برقرار رکھنے والے بہت سے خدام حضور کی کار کے ساتھ ساتھ دوڑ رہے تھے اور کچھ سائیکلوں پر سوار تھے۔حضور کی کار دیگر کاروں کے ہمراہ راستہ میں بنی ہوئی آرائشی محرابوں میں سے گزرتی ہوئی خراماں خراماں آگے بڑھ رہی تھی سڑک کے دورویہ کھڑے ہوئے احباب اور مختلف محلوں کے اطفال جنہوں نے اپنے ہاتھوں میں علم اٹھائے ہوئے تھے با آواز بلند السلام عليكم ورحمة الله وبركاته ، اهلا وسهلا ومرحباً، اہلِ مغرب کو کامیاب دعوت مُبارک ہو، کے نعرے لگاتے جاتے تھے۔حضور موٹر میں ہاتھ ہلا ہلا کر تبسم فرماتے اور وعلیکم السلام کہتے ہوئے جواب دیتے جاتے تھے اُس وقت راستہ میں ایک خاص نظم سے کھڑے ہوئے احباب پر خوشی و مسرت کا جو عالم طاری ہوا اور جس جوش و خروش کے ساتھ انہوں نے نعرے لگا لگا کر حضور کو خوش آمدید کہا۔وہ اپنی نظیر آپ تھا۔ہر شخص کی نگاہیں اس اشتیاق کے ساتھ استقبال کے لئے آگے بڑھتی تھیں کہ سب سے پہلے وہی زیارت سے مشرف ہو، اور اس وقت کی کیفیت بہت ولولہ انگیز تھی۔حضور کی کارریلوے اسٹیشن کے عقب میں واقع سڑک کے ساتھ ساتھ ہوتی ریلوے کراسنگ پر آئی اور پھر ایوان محمود دفتر وقف جدید اور دفتر ٹاؤن کمیٹی کے آگے سے گزر کر گولبازار میں داخل ہوئی اس سڑک کے ساتھ ساتھ واقع تمام مکانات اور عمارتوں پر احباب نے بجلی کے قمقموں سے چراغاں کا اہتمام کر رکھا تھا۔اور سارا راستہ جگمگ جگمگ کر رہا تھا۔گولبازار میں داخل ہوتے ہوئے جب حضور کی کا را یک بہت خوشنما آرائشی محراب میں سے گزری تو اس آرائشی محراب میں سے حضور کی کار پر گلاب کی پتیوں سے گل پاشی کی گئی۔سارا گولبازار بجلی کے رنگ برنگ قمقموں سے بقعہ نور بنا ہوا تھا۔گولبازار سے حضور کی کار دفاتر صد را منجمن اور دفاتر تحریک جدید کی درمیانی سڑک پر سے ہوتی ہوئی لجنہ اماءاللہ ہال 66 کے چوک سے شارع مبارک پر مڑی اور پھر مسجد مبارک کے احاطہ میں داخل ہو کر قصر خلافت پہنچی۔احباب احاطه مسجد مبارک کے اندر بھی راستہ کے ساتھ ساتھ قصر خلافت تک کھڑے ہوئے