تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 118
تاریخ احمدیت۔جلد 24 118 سال 1967ء کوپن ہیگن ڈنمارک میں تشریف آوری ۲۰ جولائی ۱۹۶۷ء کوسید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثالث بذریعہ ریل گاڑی ہمبرگ سے ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں رونق افروز ہوئے۔ریلوے سٹیشن پر سکنڈے نیویا کی جماعتوں نے حضور کا نہایت پر تپاک اور گرمجوشی سے استقبال کیا۔100 مسجد نصرت جہاں کا شاندار افتتاح اور حقیقت افروز خطاب پروگرام کے مطابق حضور نے ۲۱ جولائی ۱۹۶۷ء بروز جمعۃ المبارک سوا ایک بجے بعد دو پہر مسجد نصرت جہاں کا افتتاح فرمانا تھا جس کے لئے صبح ہی سے زائرین اور احمدی دوست دور دراز سے افتتاح کی مبارک تقریب میں شامل ہونے کے لئے پہنچنے شروع ہو گئے تھے۔ٹیلی ویژن والوں نے قبل از وقت ہی بڑے بڑے کیمرے مختلف مقامات پر نصب کر دیئے تھے۔اخبارات کے نمائندگان بھی کثرت سے موجود تھے۔یورپ کے جملہ مبلغین کرام کے علاوہ انگلستان، سویڈن ،ناروے ، جرمنی ، سپین، امریکہ، سوئیٹزرلینڈ کے دوستوں نے بھی شرکت فرمائی۔حضور انور ٹھیک سوا ایک بجے مسجد میں تشریف لائے۔پہلی اذان ڈینش احمدی عبدالسلام صاحب میڈسن نے دی۔حضور اقدس نے انگریزی زبان میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔آپ نے فرمایا کہ قرآن کریم میں دنیا میں امن پیدا کرنے اور انسان کا تعلق اس کے مالک حقیقی سے پیدا کرنے کے گر بیان کئے گئے ہیں۔اور دنیا کی نجات صرف اور صرف قرآنی تعلیمات پر عمل کرنے پر ہی منحصر ہے۔خدا تعالیٰ کی محبت کو جذب کرنے کا واحد ذریعہ قرآن کریم ہی ہے۔خطبه ونماز جمعہ کے بعد افتتاح کی تقریب کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو سویڈش احمدی سیف الاسلام ارکسن نے کی۔آپ نے سورۃ آل عمران کی آیات ۷۹ تا ۱۰۵ تلاوت کیں۔تلاوت قرآن کریم کے بعد ناروے کے آنریری مبلغ نور احمد صاحب بولستاد نے حضور اقدس کو جماعت احمد یہ ناروے کی طرف سے خوش آمدید کہا۔اُن کے بعد سویڈن کے احمدی بھائی سیف الاسلام ارکسن صاحب نے سویڈن کی جماعت احمدیہ کی طرف سے خوش آمدید کہا۔ان کے بعد ڈنمارک کے آنریری مبلغ عبدالسلام صاحب میڈسن نے ڈینش احمدیوں کی طرف سے حضور کو خوش آمدید کہا اور کہا کہ ڈنمارک کی تاریخ میں یہ نہایت اہم دن ہے۔جب کہ حضور اقدس بنفس نفیس