تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 119
تاریخ احمدیت۔جلد 24 119 سال 1967ء ڈنمارک میں مرکز تو حید کے افتتاح کے لیے دور دراز کا سفر طے فرما کر تشریف لائے ہیں۔اس لیے ہم جتنا بھی خدا تعالیٰ کا شکر کریں کم ہے۔خوش آمدید پر مشتمل مختصر تقاریر کے بعد حضور اقدس نے انگریزی زبان میں تقریر فرمائی۔جس کا ترجمه برادرم عبدالسلام صاحب میڈسن ڈینش زبان میں کرتے رہے۔حضور اقدس نے اسلام کے پانچ ارکان پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور فرمایا کہ مسجد خدا کا گھر ہے اور ہر اس شخص کے لیے کھلا ہے جو خدائے واحد کی پرستش کے لیے اس میں آنا چاہے۔حضور اقدس کی اس تقریر کے دوران شدّتِ جذبات سے اکثر دوستوں کی آنکھیں پر نم تھیں۔حضور نے تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔”ہمارے لئے واقعی یہ ایک پُر مسرت، بابرکت اور مقدس تقریب ہے۔محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے سلسلہ عالیہ احمدیہ کی مستورات نے اس مسجد کی تعمیر کے لئے جو اس خوبصورت سرزمین اور ڈنمارک کے مہذب اور شائستہ شہریوں کے دارالحکومت میں بنائی گئی ہے، چندہ جمع کر کے رقم فراہم کی۔اللہ تعالیٰ کے اس غیر معمولی احسان پر ہمارے دل اللہ تعالیٰ کی حمد سے معمور ہیں۔ہم اس سرزمین کے عظیم شہریوں کے بھی ممنون ہیں کہ انہوں نے بطیب خاطر ہم سے تعاون کیا اور مسجد کی تعمیر کے راستے میں جور کا وٹیں حائل تھیں ان کو دُور کر نے کے لئے ہمیں اخلاقی مدد بہم پہنچائی۔فالحمد للہ۔اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ یہ چھوٹی سی مسجد اب پایہ تکمیل کو پہنچ چکی ہے۔میں اللہ تعالیٰ کا نام لے کر اس کا افتتاح کرتا ہوں اور مجھے خدا تعالیٰ کی ذات پر پورا بھروسہ اور یقین ہے کہ وہ اس مقصد کو پورا فرمائے گا جس کے لئے یہ مسجد تعمیر کی گئی ہے۔قرآن کریم پر زور الفاظ میں اس بات کو پیش کرتا ہے کہ مسجد خانہ خدا ہے اس لئے یہ کسی فرد واحد کی ملکیت نہیں ہوتی اور یہ کہ تمام عبادت گاہیں اللہ ہی کے لئے ہیں۔انسان تو صرف ان کی نگرانی اور دیکھ بھال کا فرض ادا کرتا ہے لہذا تمام اسلامی مساجد کے دروازے ہر ایسے فرد اور ہر ایسی مذہبی جماعت کے لئے کھلے ہیں جو خدائے واحد کی پرستش کرنا چاہے۔چنانچہ میں ایک واقعہ کا ذکر کرتا ہوں جب