تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 117
تاریخ احمدیت۔جلد 24 117 سال 1967ء تھا۔نیز اسلام مسلمانوں کو روزانہ پانچ نمازیں ادا کرنے کا حکم دیتا ہے۔۵۷ سالہ خلیفہ کی کئی بیویاں نہیں جیسا کہ قرآن اجازت دیتا ہے۔حضرت مرزا ناصر احمد کی صرف ایک بیوی ہے۔آپ کی فیملی تین لڑکوں اور دولڑکیوں پر مشتمل ہے۔( دوسری عالمگیر ) جنگ سے قبل آپ نے مشہور یونیورسٹی آکسفورڈ میں تعلیم حاصل کی۔احمد یہ مسلمہ جماعت کے لیڈر نے پیشگوئی کی کہ آئندہ میں سال میں ایک زبر دست تباہی آئے گی جس سے علاقے کے علاقے تباہ ہو جائیں گے اور پھر جولوگ بچیں گے وہ اسلام میں پناہ لیں گے۔“ ایک شام کو نکلنے والے اخبار HAMBURGER ABENDBLATT نے اپنی اشاعت ۱۸ جولائی میں درمیانے سائز کی حضور کی تصویر دے کر پریس کانفرنس کی رپورٹ شائع کی۔اخبار لکھتا ہے:۔ایک خلیفہ نے پریس کانفرنس منعقد کی 66 احمدیہ مسلمان جماعت کے لیڈر حضرت مرزا ناصر احمد نے اپنے جرمنی کے دورہ کے اختتام پر یورپ میں اسلام کی ترقی کے متعلق پریس کانفرنس کی۔اس مشرقی دانا کی باتیں سمجھنا ہمارے لئے آسان نہ تھا لیکن انہوں نے تمام سوالات کے جوابات پوری بشاشت اور قتل کے ساتھ دیئے۔سوال۔جرمنی اور یورپ میں آپ کے کس قدر ممبر ہیں؟ جواب۔ہم نے تعداد تو نہیں گئی تعداد کے لحاظ سے تھوڑے ہیں مگر ہماری یہ رائے ہے کہ ہم نے جرمنی میں گہرا اثر پیدا کیا ہے اور یقین رکھتے ہیں کہ ہم بہت سے اور ممبر بنالیں گے۔سوال۔یہ کیسے ہوگا ؟ جواب۔جرمن قوم کے قلوب کو فتح کرنے سے اور یہ حقیقت ہے کہ دلوں کو تب ہی فتح کیا جا سکتا ہے جب انہیں اسلام کی خوبیوں سے پوری طرح اطلاع دی جائے۔نیز ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بے تکلفی کے رنگ میں یہ بتانے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ فرینکفورٹ کے علاقہ میں امریکن تہذیب کا اثر مجھے پسند نہیں۔سوال۔اس دفعہ کے سفر میں آپ کا جرمن قوم کے متعلق کیا نظریہ ہے؟ جواب۔جرمن لوگ بڑے بے تکلف اور کھلے دل والے ہیں انسان ان کے ساتھ جلدی دوست بن جاتا ہے۔66