تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 91
تاریخ احمدیت۔جلد 24 91 سال 1967ء ضروری ہے۔بہت سے اہل یورپ بھی ان مواقع پر اس غیر متعصب آزاد اور قدیم اسلامی سیرت کے ساتھ رابطہ قائم کر کے حقیقی فائدہ حاصل کرتے ہیں۔جماعت احمدیہ یہ خصوصیت رکھتی ہے کہ یہ صحیح اسلامی تصورات کی علمبر دار ہے اس کی بنیاد حضرت مرزا غلام احمد (علیہ الصلوۃ والسلام) نے رکھی۔جن کا وصال ۱۹۰۸ء میں ہوا اور جنہیں ان کے پیرو مہدی موعود یقین کرتے ہیں۔دیگر خدمات کے علاوہ سلسلہ احمدیہ کی ایک اہم خدمت یہ ہے کہ اس نے قرآن کریم کے مستند تراجم شائع کئے۔ان تراجم نے خصوصاً مغربی دنیا میں اسلامی فکر کا جو قاہرہ کے انداز فکر سے ممتاز ہے بہتر شعور پیدا کیا ہے۔امام حضرت مرزا ناصر احمد نے ایک غیر رسمی مجلس استقبالیہ میں جس میں مسجد سے تعلق رکھنے والے اور دیگر احباب مدعو تھے اس امر پر زور دیا کہ اسلام اپنے اصل کے لحاظ سے امن کا مذہب ہے اور اس کے پیروؤں کو صرف اور صرف اپنے قومی اور مذہبی دفاع کے لئے ہتھیار اٹھانے کی اجازت ہے آپ کا یہ ارشاد بہت دلچسپ تھا کہ ”ہولی وار کا ترجمہ اسلام میں لغوی طور پر موجود نہیں۔قرآن نے جو اصطلاح استعمال کی ہے وہ ”جہاد“ ہے جس کا مطلب انتہائی کوشش ہے جو انسان دعا اور تدبیر کے ذریعہ ایک مقصد کے حصول کے لئے کرتا ہے یہ کوشش روحانی و مادی دونوں طرح کی ہو سکتی ہے۔آپ نے فرمایا جس طرح آپ صبر سے یہاں ایک گھنٹہ سے بیٹھے باتیں سن رہے ہیں آپ نے بھی گویا ایک رنگ کا جہاد کیا ہے۔89 آخر میں اخبار مذکور نے اپنی طرف سے توقع کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ:۔” ہم اپنی دنیا کی بہتری کے خیال سے امید رکھتے ہیں کہ ایسی امن پسند قوتوں کی آواز جہاں بھی بلند ہوسنی جائے گی۔اس رپورٹ کے ساتھ اخبار مذکور نے حضور کا ایک فوٹو بھی شائع کیا۔جوا اجولائی کو حضور کے اعزاز میں دیئے گئے ظہرانہ کے موقعہ پر لیا گیا تھا۔فوٹو میں حضور اقدس کے ہمراہ نائیجیریا کے سفیر ہزایکسی لینسی الحاج سولے ڈیڈے کو لو سفیر جمہوریہ تر کی ہز ایکسی لینسی نجم الدین تنجل اور رسابق وزیر اعظم عراق محمد فاضل الجمالی نظر آرہے ہیں۔لاخبار NEUE-ZURCHER ZEITUNG نہ صرف سوئٹزر لینڈ کا موقر ترین روز نامہ ہے بلکہ اس کا شمار دنیا کے چوٹی کے روز ناموں میں ہوتا ہے۔اس اخبار نے ۱۲ جولائی ۱۹۶۷ء