تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 92
تاریخ احمدیت۔جلد 24 92 سال 1967ء کے شمارہ میں حسب ذیل نوٹ سپر دا شاعت کیا احمدیہ مسجد میں معزز مہمان جماعت احمدیہ کے امام کا زیورک میں ورود زیورک کا احمدیہ مشن کسی تعارف کا محتاج نہیں۔آج سے چار سال قبل جب فورخ روڈ پر بالگرسٹ گر جا کے بالمقابل مسجد محمود کا افتتاح عمل میں آیا تو مشن ہذا کو بہت شہرت حاصل ہوئی۔اس مسجد کے دروازے نہ صرف جماعت احمدیہ کے پیروؤں کے لئے بلکہ تمام مسلمانوں کے لئے ہر وقت کھلے ہیں۔یہ ایک نہایت پُر مسرت موقعہ تھا۔جبکہ سلسلہ احمدیہ کے روحانی پیشوا جماعت احمد یہ سوئٹزرلینڈ کے افراد کو شرف زیارت بخشنے یہاں تشریف لائے اس دینی جماعت کے امام ( جس کا مرکز پاکستان میں ہے جو حقیقی اسلام پیش کرتی ہے اور جو یورپ میں بھی تبلیغ اسلام کا فریضہ ادا کرنے میں مصروف ہے۔مورخہ 1 جولائی بروز سوموار فرینکفورٹ سے کلوٹن کے ہوائی اڈہ پر وارد ہوئے۔اسی شام مسجد زیورک میں آپ کے اعزاز میں جماعت کی طرف سے ایک استقبالیہ تقریب کا انعقاد عمل میں آیا اور اس سے اگلے روز (۱ جولائی بروزمنگل ) جماعت احمدیہ کی اس بلند ترین روحانی شخصیت کے اعزاز میں ظہرانہ دیا گیا۔دعوت طعام کے بعد جو مشرقی طرز کے نفیس اور لذیذ کھانوں پر مشتمل تھی جماعت احمدیہ کی اس بلند ترین روحانی شخصیت نے پریس کے سراپا اشتیاق نمائندگان کو شرف گفتگو بخشا اور انہیں اسلام اور جماعت احمدیہ کے متعلق معلومات سے نوازا۔اس تقریب کا امتیاز صرف یہی نہیں تھا کہ اس میں مشرقی رنگ میں رنگے ہوئے متعدد ممالک کے معززین ایک جگہ جمع تھے بلکہ ان میں متعدد ایشیائی افریقی اور یورپی ملکوں کے سفارتی نمائندے اور دیگر سر بر آوردہ حضرات بھی موجود تھے۔چنانچہ اس تقریب میں اکثر عرب ممالک ایران ترکی نیز افریقہ اور ایشیا کے اسلامی یا اسلام سے متاثر ملکوں کے معززین آئے ہوئے تھے علاوہ ازیں نائیجیریا اور ترکی کے سفیر ، غانا اور ایران کے سفارت خانوں کے سربراہ بعض یورپین ممالک کے قونصل جنرل عراق کے ایک سابق وزیر اعظم اور البانیہ کے شاہی خاندان کے بعض افراد بھی اس میں شریک تھے۔تقریب کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔زیورک کی مسجد محمود کے امام اور زیورک مشن کے سربراہ جناب مشتاق احمد صاحب باجوہ نے ابتداء میں جماعت احمدیہ کے روحانی پیشوا حضرت مرزا ناصر احمد کا تعارف کرایا۔