تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 62 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 62

تاریخ احمدیت۔جلد 23 62 سال 1965ء پہنچ گئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے منظم طریق سے اور بڑی سہولت کے ساتھ تمام احباب کی ملاقات ہوگئی۔تیز گام عام طور پر ساہیوال کے سٹیشن پر پانچ منٹ کے لئے رکتی تھی اس روز ٹرین پندرہ منٹ رکی رہی۔جماعت ساہیوال کے احباب نے بھی بڑا تعاون کیا جن میں مکرم محترم اکرام الحق 31 766 جتالہ صاحب خاص طور پر قابل ذکر ہیں جو ان دنوں قائد خدام الاحمدیہ ساہیوال تھے۔انہوں نے اپنے خدام کے ساتھ بڑا اچھا کام کیا۔اللہ تعالیٰ ان سب کو جزائے خیر دیوے۔آمین۔جماعت احمد یہ برما کا ایک احتجاجی مراسلہ جولائی ۱۹۶۵ء کا واقعہ ہے کہ جماعت احمد یہ برما کو علم ہوا کہ برمی زبان میں ایک کتاب انقلابی خیالات‘ چھپی ہے جس میں مصنف نے سید المعصو میں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات پر حملہ کیا ہے اور پروفیسر انگرسول کی کسی کتاب سے ایک نہایت نا پاک حوالہ درج کر کے اپنے خبث باطن کا اظہار کیا ہے۔جماعت احمد یہ برما کے پریذیڈنٹ خواجہ بشیر احمد صاحب نے ایک طرف مسلم اداروں کو اس کی اطلاع دی اور دوسری طرف ایک احتجاجی مراسلہ کے ذریعہ برما کے ہوم سیکرٹری ، انفارمیشن سیکرٹری اور سنٹرل انقلابی حکومت کے ادارہ کو خبر دار کیا۔اس احتجاج کا فوری نتیجہ برآمد ہوا چنانچہ حکومت بر مانے اس دلازار کتاب کے تمام نسخے بحق سرکار ضبط کر لئے اس مستحسن اقدام کی بدولت ملک میں کوئی نا خوشگوار حادثہ پیش نہ آیا۔(حضرت) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کا انصار اللہ ضلع لائلپور کے اجتماع سے خطاب ۲۵ جون ۱۹۶۵ء کو دارالذکر لائلپور میں مجالس انصار اللہ ضلع لائلپور کا ایک روح پرور اجتماع ہوا۔جس میں (حضرت) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے شرکت فرمائی۔اس موقعہ پر پروفیسر شیخ محبوب عالم صاحب خالد ایم اے قائد عمومی ، مولانا ابو العطاء صاحب فاضل قائد تربیت ، مولانا مبارک احمد صاحب قائد اصلاح و ارشاد پروفیسر بشارت الرحمن صاحب ایم اے، مولوی نسیم سیفی صاحب نائب قائد عمومی ، مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب نائب قائد اصلاح وارشاد، محمد احمد صاحب انور حیدر آبادی اور میاں مسعود احمد خاں صاحب دہلوی قائد اشاعت بھی حضرت صاحبزادہ صاحب