تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 63 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 63

تاریخ احمدیت۔جلد 23 63 سال 1965ء موصوف کے ہمراہ لائل پور گئے اور انہوں نے بھی اہم علمی اور تربیتی موضوعات پر تقاریر کیں۔اجتماع کے آخر میں (حضرت) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب صدر مجلس انصار اللہ مرکزیہ نے صدارتی تقریر ارشاد فرماتے ہوئے انصار کو نہایت بیش قیمت نصائح سے نوازا۔آپ نے فرمایا ہم انصار اللہ کہلاتے ہیں۔انصار اللہ کی اصطلاح دو طرفی رشتہ پر دلالت کرتی ہے۔ایک طرف تو یہ دو لفظ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ایک ایسی جماعت موجود ہے جس کے افراد اپنے دلوں میں یہ خواہش رکھتے ہیں کہ وہ محض اللہ دین کی خدمت کا فریضہ ادا کریں۔دوسری طرف انصار اللہ کی اصطلاح اس امر کا بھی آئینہ دار ہوسکتی ہے کہ ایک ایسی جماعت موجود ہے جس کے افراد کا شعار ہی نصرت دین ہے اور جو خدمت بھی بجالا کر وہ نصرت دین کا فریضہ ادا کر رہے ہیں وہ اللہ کے ہاں مقبول ہے یعنی اسے اللہ تعالی کی سند قبولیت حاصل ہے۔اب جہاں تک پہلے معنوں کی رُو سے نصرت دین کی خواہش کا تعلق ہے حقیقی معنوں کی رُو سے یہ انصار اللہ بننے کے لئے ہرگز کافی نہیں کیونکہ محض خواہش کے موجود ہونے سے کسی انعام کا استحقاق لازم نہیں آتا۔مثال کے طور پر آٹھ نو ماہ کا طفلِ شیر خوار جب چاند کی طرف دیکھتا ہے تو اس کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ وہ چاند کو پکڑے۔چنانچہ بسا اوقات اس خواہش کے زیر اثر وہ چاند کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے لیکن اُس کی یہ خواہش اسے اس قابل نہیں بنا سکتی کہ فی الواقعہ وہ چاند کو پکڑ لے۔چاند کو پکڑنے کی خواہش ویسے ہی امید موہوم کا درجہ رکھتی ہے کیونکہ فی زمانہ سائنسدان بھی چاند تک پہنچنے کی جو کوششیں کر رہے ہیں ان پر بھی چاند کو پکڑنے کے سلسلہ میں طفلِ شیر خوار کی خواہش والی مثل صادق آتی ہے اس لئے کہ اب تک وہ جس حد تک بھی خلا میں گئے ہیں اس کرہ ارض پر زندگی کو برقرار رکھنے والے حالات کو اپنے ساتھ ہی لے کر گئے ہیں۔ان حالات کی عدم موجودگی میں خلا کے اندر چند سیکنڈ بھی ان کے لئے زندہ رہنا ممکن نہیں ہے۔اس میدان میں حیرت انگیز ترقی کے باوجود انہیں نا کامی کا دھڑکا لگا ہوا ہے کہ وہ چاند تک پہنچ بھی پاتے ہیں یا نہیں۔اس میں شک نہیں نصرت دین کی محض خواہش کا موجود ہونا انصار اللہ بننے کے لئے کافی نہیں اور یہ کہ نصرت دین کی محض خواہش چاند کو پکڑنے کے تعلق میں طفل شیر خوار کی خواہش سے زیادہ کوئی وقعت نہیں رکھتی بایں ہمہ یہ خواہش ایسی خواہش نہیں ہے جس کے ساتھ نا کامی کا دھڑکا لگا ہوا ہو۔اگر ہم چاہیں تو اپنی اس خواہش کو عملی جامہ پہنا کر ہم حقیقی معنوں میں انصار اللہ بن سکتے ہیں اور اپنی نصرت دین کو اس معیار پر پہنچا