تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 60 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 60

تاریخ احمدیت۔جلد 23 60 سال 1965ء میں جو کام کیا ہے اور جدید طبیعیات کے علم میں یادگار اضافہ کر کے ہمیشہ قائم رہنے والا جو کارنامہ سرانجام دیا ہے قوم کو اس پر فخر ہے“۔29 (حضرت) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کا مجلس انصار اللہ ربوہ سے پُر اثر خطاب ۷ اجون ۱۹۶۵ء کو (حضرت) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے مجلس انصار اللہ ربوہ کے اجلاس عام سے ایک پُر اثر خطاب فرمایا اور انصار اللہ کو تلقین فرمائی کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں کا بالاستیعاب مطالعہ کریں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی اتباع کے لئے صحابہ کے نمونہ کی پیروی کریں تا کہ دنیا ان تعلیمات کی زندہ اور عملی تصویر ہماری زندگیوں میں دیکھ سکے۔(حضرت) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ساہیوال میں 30 محترم ڈاکٹر عطاءالرحمن صاحب سابق امیر جماعت ضلع ساہیوال تحریر فرماتے ہیں :۔۱۴ جون ۱۹۶۵ء کو (حضرت) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب بطور صدر مجلس انصار اللہ مرکز یہ ساہیوال تشریف لائے۔گرمی بہت زیادہ تھی۔انہی دنوں رن کچھ کے مقام پر پاکستان اور بھارت کے درمیان فوجوں کی جھڑپ ہو چکی تھی اور سڑکوں پر فوج کی نقل وحرکت کی وجہ سے بڑارش تھا۔صاحبزادہ صاحب ساڑھے بارہ بجے دوپہر ربوہ سے روانہ ہو کر تقریبا پانچ بجے بعد دو پہر ساہیوال پہنچے۔اسی روز ان کے اعزاز میں خاکسار کے مکان پر عصرانہ کا انتظام تھا۔خاکساران دنوں ناظم انصار اللہ ضلع ساہیوال ( بشمول ضلع اوکاڑہ اور ضلع پاکپتن ) تھا اور مکرم و محترم چوہدری محمد شریف صاحب امیر جماعتہائے احمدیہ ضلع ساہیوال کی بیماری کی وجہ سے قائمقام امیر کا کام بھی کر رہا تھا۔بہت سے معززین ( جن میں محترم را نا عبدالحمید صاحب مرکزی وزیر اور ضلعی افسران ساہیوال) مدعو تھے۔ان کے ساتھ صاحبزادہ صاحب بات چیت فرماتے رہے۔بیت الحمد اوّل (اوّل سے مراد وہ مسجد احمد یہ ہے جو ۱۹۸۴ء سے گورنمنٹ کی طرف سے سیل چلی آ رہی ہے ) بڑی فراخ ، رنگ وروغن سے مزین اور بڑی صاف ستھری تھی۔اس میں ضلع بھر سے آئے ہوئے انصار حضرات کا اجلاس تھا جس میں صاحبزادہ صاحب نے بھی نصائح فرمائیں۔بیت الحمد کی فراخی اور رنگ و روغن دیکھ کر بعد میں جب (حضرت) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب خلافت ثالثہ پر متمکن ہوئے تو انہوں نے مرکز ربوہ میں ایک مجلس مجلس عرفان یا ارشاد کے نام سے قائم فرمائی جس