تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 755 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 755

تاریخ احمدیت۔جلد 23 755 سال 1966ء سالے کینیا گاؤں میں بھی نئی جماعت قائم ہوئی تھی۔پہلے وہاں دو نو جوان احمدی ہوئے پھر مئی ۱۹۶۵ء میں ایک نوجوان نو حاٹورے احمدی ہوئے۔ان کو دعوت الی اللہ کا بہت شوق ہے۔ان کی اور لوکل مشنری کی پانچ ماہ کی دعوت الی اللہ سے اب اس جماعت کی تعداد ایک سو افراد سے زائد ہو چکی ہے۔عید الفطر کے موقعہ پر ریڈیو والوں نے پیغام عید ریکارڈ کرنے کی دعوت دی۔عربی اور انگریزی میں پیغام ریکارڈ کرائے گئے۔جن کو عید کے دن ساڑھے آٹھ بجے رات اور اس کے بعد بھی کئی دفعہ براڈ کاسٹ کیا گیا۔لوکل مبلغ مولوی ابراہیم عبد القادر کو ساتھ لے کر وزیر اعظم صاحب کے مکان پر ان سے ملاقات کی۔قرآن کریم مترجم کے علاوہ سات کتب ان کی خدمت میں پیش کی گئیں۔الحاج ایف ایم سنگھائے صاحب کی بار بار کی تحریک پر وزیر اعظم صاحب نے ے مئی ۱۹۶۵ء کو اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا تھا۔اس کے بعد برابر ان کولٹریچر دیا جا رہا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کا شرح صدر کر دے۔آمین لائبیریا 96 مکرم مبارک احمد ساقی صاحب انچارج احمد یہ مشن لائبیریا کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے منرو یا شہر سے باہر ۲۵ دیہات میں تقاریر اور لٹریچر کے ذریعہ تبلیغی مساعی جاری رکھی۔ایک گاؤں (Boima Town) کے چیف کی دعوت پر ایک چرچ میں آدھ گھنٹہ تقریر کی جس میں بائیبل سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بشارات پڑھ کر سنائیں اور مسیح علیہ السلام کی بعثت ثانیہ کا ذکر کیا۔اس گاؤں کے دس عیسائیوں نے اسلام قبول کر لیا۔یونیورسٹی آف لائبیریا میں ٹیچر ٹریننگ کلاس میں بھی ایک تقریر کی جس کا خلاصہ وہاں کے ایک روز نامہ اخبار میں شائع ہوا۔عیدالاضحیہ کے موقع پر ایک احمدی دوست حاجی سانکو با یو صاحب نے ایک عشائیہ کا انتظام کیا۔تیں احباب مدعو تھے۔جن میں مسلمان گورنر ، مسلم کانگرس آف لائبیریا کے پریذیڈنٹ، سیرالیون ایسوسی ایشن کے سیکرٹری اور روز نامہ Listener کے ایڈیٹر خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔کھانے کے بعد مکرم مبارک احمد ساقی صاحب نے جماعت احمدیہ کے قیام کی غرض و غایت بیان کی۔اس کے بعد مسلم کانگرس آف لائبیریا کے پریذیڈنٹ نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہم نے جماعت احمدیہ کے مبلغین کی مساعی کا بغور جائزہ لیا اور اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ احمدی حقیقی مسلمان ہیں اور ان کے دلوں میں اسلام