تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 754
تاریخ احمدیت۔جلد 23 754 سال 1966ء نے کسٹموں میں ایک حرکت پیدا کر دی۔اور متعدد شہروں اور دیہات کا بار بار دورہ کیا۔اور پھر ٹاوٹیا مشن کے انچارج کی حیثیت سے نہایت پر جوش انداز میں تعلیم و تربیت کے فرائض سرانجام دینے لگے۔اور تھوڑے ہی عرصے میں سواحیلی زبان پر بھی عبور حاصل کر لیا۔تین ماہ بعد مولوی منیر الدین صاحب نے ان سے کسموں کا چارج لینے کے بعد کم وبیش ایک ہزار میل کا تبلیغی سفر کیا۔کینیا میں آریہ سماج نے اپنا سالانہ جلسہ کیا اور اس میں اسلام کی نمائندگی کے لئے صوفی محمد اسحق صاحب کو لیکچر دینے کے دعوت دی۔لیکچر کا عنوان تھا ”سائنس کا اثر مذہب پر صوفی صاحب نے متعدد تاریخی واقعات اور مغربی دانشوروں کے حوالہ جات سے ثابت کیا کہ بچے مذہب کو سائنس سے ڈرنے کی قطعاً ضرورت نہیں۔نیز بتلایا گیا سائنس کے زمانے میں خلاف فطرت و خلاف عقل تعلیم دینے والے مذاہب کے پھیلنے کا امکان اب ختم ہو گیا ہے۔اس کامیاب تقریر کی ہندوؤں نے بھی تعریف کی۔گیمبیا 95- مکرم مولوی غلام احمد صاحب بد و ملهوی انچارج گیمبیا مرکز کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے بذریعہ لٹریچر، زبانی گفتگو اور خط و کتابت گیمبیا، مالی اور سینیگال سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد تک پیغام حق پہنچایا جس کے نتیجہ میں مالی سے تعلق رکھنے والے ایک دوست عبدالرحمان صاحب جو کہ عربی اور فرانسیسی خوب جانتے ہیں نے احمدیت میں شمولیت اختیار کی۔اسی طرح سینیگال سے تعلق رکھنے والے ایک اہل علم دوست محمد الا مین لوح صاحب کے علاوہ عربی مدرسہ کے دو طالب علم اور ڈکار سے چند میل دور ایک گاؤں امبور نامی کے سید عبدالرحمان صاحب نے بھی احمدیت قبول کی۔اسی طرح سینیگال کے شہر بن کلنگ سے تعلق رکھنے والے ایک معلم الصبیان صاحب نے بیعت کی۔گیمبیا کے ایک اور شہر جورج ٹاؤن میں ۴۰ / افراد کی نئی جماعت قائم ہوئی۔وہاں کے چیف صاحب نے بھی احمدیت قبول کی ہے۔چیف صاحب نے جورج ٹاؤن میں اسکینڈری سکول کے لئے زمین دینے کا بھی وعدہ کیا۔اسی شہر میں مقیم ایک لبنانی گھرانے کے تین افراد نے بھی بیعت کر لی۔گیمبیا کے ایک گاؤں مرفینی میں سے دسمبر ۱۹۶۵ء کو ایک مسجد کی بنیاد رکھی گئی۔یہ گیمبیا میں جماعت احمدیہ کی دوسری مسجد ہے۔