تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 748
تاریخ احمدیت۔جلد 23 748 سال 1966ء مگر ذرا سوچئے تو اور وہ کیفیت ذہن میں لائیے جبکہ آج سے ۸۶ سال قبل ہندوستان کے ایک گمنام اور چھوٹے سے قادیان نامی گاؤں میں جو دور افتادہ اور ریلوے سٹیشن سے گیارہ میل دور واقع تھا ایک شخص جو تن تنہا تھا جو گمنامی کے عالم میں تھا دنیوی وسائل سے محروم جسے دیکھ کر اس کے بزرگ اس پر ترس کھاتے ہوئے کہتے یہ زندہ کیسے رہے گا اس کا پُرسانِ حال کون ہو گا اسے اللہ نے اپنایا اور دنیا کی اصلاح کے لئے چنا اور اس سے کہا:۔وو دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اسے قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔عنقریب اسے ایک ملک عظیم دیا جائے گا اور خزائن اس پر کھولے جائیں گے۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے اور تمہاری 90 آنکھوں میں عجیب۔ہم عنقریب تم میں ہی اور تمہارے اردگر دنشان دکھلاویں گے۔ان الہامات میں کتنا بڑا دعویٰ ہے اتنا بڑا کہ خود حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود علیہ السلام اسے سن کر حیران ہوئے بغیر نہ رہے ہوں گے جیسا کہ اس الہام الہی میں ” یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے اور تمہاری آنکھوں میں عجیب۔‘“ کے الفاظ سے ظاہر ہے اور حیرانی کی بات تو تھی ہی۔ایک بے بس و بے کس انسان، کمزور اور نا تواں انسان جسے کوئی نہیں جانتا۔اس کے پاس مال نہیں ، اسباب نہیں ،اسے دیگر وسائل میسر نہیں اسے عظیم ملک اور بے بہا خزانوں کے وعدے دیئے جارہے ہیں۔زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کرنے کا قول دیا جارہا ہے۔اسے فتح عظیم کا پیغام دیا جارہا ہے اور اسے خدا کے حضور سے قبولیت کی سند عطا کی جارہی ہے اور پھر اس کی تائید میں نشانات کے وعدے دیئے جارہے ہیں۔کجا وہ دن اور کجا آج کا دن کہ خدائی وعدوں کے عین مطابق حضرت احمد علیہ السلام کا مشن اکناف واطراف عالم میں کامیاب و کامران نظر آرہا ہے اور سعید روحیں ایک بڑی تعداد میں خواہ وہ مشرق سے تعلق رکھتی ہوں یا مغرب سے، شمال سے تعلق رکھتی ہوں یا جنوب سے۔ایشیا سے تعلق رکھتی ہوں یا افریقہ سے۔امریکہ سے وابستہ ہوں یا یورپ سے اس کی طرف کھنچی چلی آرہی ہیں اور بکثرت فیض یاب ہوتی چلی جارہی ہیں زندہ خدا کی