تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 734
تاریخ احمدیت۔جلد 23 734 سال 1966ء اس سال میر غلام احمد صاحب نسیم ایم۔اے ماہ جون میں گی آنا پہنچے اور آرچرڈ صاحب کے ساتھ ایک ماہ تک کام کرنے کے بعد مشن کا چارج سنبھالا۔آپ کی پہلی رپورٹ کے مطابق ابتدائی چند مہینوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ساٹھ افراد داخل احمدیت ہوئے۔آٹھ مرتبہ اسلام کی حقانیت پر ریڈیو سے خطاب کیا۔ایک دفعہ آپ کا انٹرویو بھی نشر ہوا۔نیوا کیمسٹرڈم میں ایک احمدیہ وفد نے گورنر جنرل سے ملاقات کی۔اور ایک تبلیغی خط کے علاوہ دینی لٹریچر بطور تحفہ پیش کیا۔گورنر جنرل نے شکریہ ادا کرتے ہوئے اسلام کے دنیا پر احسانات کا خاص طور پر ذکر کیا۔نیز کہا کہ اس ملک کی ترقی میں اسلام اور مسلمانوں کا بہت بڑا دخل ہے۔یہ بھی کہا کہ احمد یہ جماعت سے جو اسلام کو صحیح رنگ میں دنیا کے سامنے پیش کرتی ہے مل کر خوشی ہوئی۔آخر میں انہوں نے مشن کی ہر ممکن مدد کا وعدہ کیا۔جماعت احمد یہ گی آنا کی سالانہ کانفرنس ۲۹ جنوری ۱۹۶۶ء کو منعقد ہوئی۔پریس اور ریڈیو نے اس کی خبریں دیں۔حاضری توقع سے زیادہ رہی۔تنزانیہ ۱۰ مارچ ۱۹۶۶ء کی تاریخ تنزانیہ مشن میں ہمیشہ یادگار رہے گی کیونکہ اس روز تنزانیہ کے شہر ٹانگا میں مسجد احسان کا افتتاح عمل میں آیا۔خدا کے اس گھر کی تعمیل بہت غیر معمولی حالات میں ہوئی۔اس کا نام حضرت مصلح موعود نے رکھا تھا۔مشرقی افریقہ میں مستقل مشنوں کے قیام کے بعد یہ پہلی مسجد تھی۔جو مشرقی افریقہ کے ایک اہم شہر میں تعمیر ہوئی۔ایک مخلص افریقن احمدی جمعہ ائے عبداللہ نے اس کے لئے دو ہزار شلنگ کا عطیہ دیا اور کئی اور احباب نے اپنی ایک ایک ماہ کی تنخواہ اس کے لئے پیش کردی۔افتتاحی تقریب مولانا محمد منور صاحب امیر مشنری انچارج کی زیر صدارت ہوئی جس میں نور الحق خان صاحب بی ایس سی نے حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے مندرجہ ذیل روح پرور پیغام کا سواحیلی زبان میں ترجمہ پڑھ کر سُنایا۔اعوذ بالله من الشيطن الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هو الناصر السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ