تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 735 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 735

تاریخ احمدیت۔جلد 23 735 سال 1966ء مجھے یہ معلوم کر کے بے حد مسرت ہوئی کہ ٹانگا کی مسجد احمد یہ جسے سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے مسجد احسان“ کے نام سے موسوم کیا تھا۔پایہ تکمیل کو پہنچ چکی ہے اور آج اس مسجد کا افتتاح ہورہا ہے اور اس مبارک تقریب پر مجھ سے ایک پیغام کی خواہش کی گئی ہے۔اس غرض کے لئے سطور ذیل تحریر ہیں:۔گذشتہ دنوں ماہ نومبر میں ہم پر ایک قیامت گزری جو ہمارے پیارے آقا سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ہم سے جدا ہوکر محبوب حقیقی سے جاملے۔اناللہ وانا الیہ راجعون مگر اللہ تعالیٰ نے محض اپنے خاص فضل سے خود ہمارے زخمی دلوں پر بھایا رکھا۔ہم سب کو پھر ایک ہاتھ پر جمع کر دیا۔اور جماعت کی وحدت وسالمیت کو برقرار رکھا۔قافلہ رواں ہے اور خدا کے فضل سے تیزی کے ساتھ منزلِ مقصود کی طرف بڑھ رہا ہے۔الـحـمـد لله و ذالک فضل الله يوتيه من يشاء والله ذو الفضل العظيم اس موقعہ پر ہمیں یہ امر مدنظر رکھنا چاہیئے کہ ممالک مشرق و غرب میں اسلام کا پیغام پہنچانا۔خلق خدا کو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا گرویدہ بنانا اور دنیا بھر میں مساجد قائم کرنا حضور کو بے حد محبوب تھا۔تا دنیا کے کونے کونے سے خدا کا نام بلند ہو۔اور ہر مقام سے حضرت رسول کریم ﷺ پر کثرت سے درود بھیجا جائے۔ٹانگا کی مسجد بھی اس سلسلہ کی ایک کڑی ہے پس اس مبارک تقریب پر (TANZANIA) تنزانیہ کے سب دوستوں سے کہونگا کہ وہ حضور ہی کے مقاصد کو اپنائیں اور اللہ کا نام بلند کرنے اور دنیا کے کونے کونے میں اسلام کا پیغام پہنچانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کریں اور اس مقصد کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہ کریں یہاں تک کہ سب دنیا میں اسلام غالب آجائے اور ہر انسان کی زبان پر درود جاری ہو جائے۔آمین اسی سلسلہ میں ہمیں اپنی کوششیں تیز تر کرنا ہوں گی۔ہمیں یہ امر بھی مد نظر رکھنا چاہیئے کہا اسلام کی تبلیغ واشاعت کی کوشش تبھی مفید نتائج پیدا کرسکتی ہے جب ہماری اپنی زندگیاں اسلام کے رنگ میں رنگین ہوں اور ہم اسلام کے ہر حکم پر عمل پیرا ہو کر