تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 732
تاریخ احمدیت۔جلد 23 732 سال 1966ء اخلاق اور اطوار کو دیمک کی طرح کھا کر کھو کھلا کرتی چلی جارہی ہیں۔صرف ایک ایسے دین اور ایک ایسے مذہب میں ہے جو انسان کا خدا تعالیٰ کے ساتھ صحیح اور سچا تعلق پیدا کر دے۔حاضرین حضرت چوہدری صاحب کی تقریر سے بہت متاثر ہوئے صاحب صدر مسٹر ہیکٹر ہیوز ممبر پارلیمنٹ نے خاص طور پر اس تقریر کی تعریف کی اور یہ خواہش ظاہر کی کہ اگر یہ تقریر شائع کر کے ملک میں تقسیم کی جائے تو اس سے بہت فائدہ ہوگا۔اسی روز حضرت چوہدری صاحب کی زیر صدارت ایک مجلس مشاورت ہوئی۔جس میں جماعت کے تبلیغی ، تربیتی اور مالی نظام کو بہتر بنانے کے لئے متعدد فیصلے کئے گئے۔حضرت چوہدری صاحب نے اس موقع پر فضل عمر فاؤنڈیشن کی تحریک میں حصہ لینے کی طرف نہایت مؤثر انداز میں توجہ دلائی اور بعض اہم تجاویز بھی پیش کیں۔دوسرے روز خان بشیر احمد خان صاحب رفیق نے حضرت خلیفۃ امسیح الثالث اور صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کے پیغامات پڑھ کر سنائے۔بعد ازاں احمدیہ مشن لنڈن اور برطانیہ کی احمدی جماعتوں کی سرگرمیوں کا مختصر سا خاکہ پیش کیا۔آپ کی تقریر کے بعد بالترتیب مولوی فضل الہی صاحب انوری انچارج فرینکفورٹ مشن، شیخ نذیر احمد صاحب بشیر،مولوی محموداحمد صاحب مختار آف گلاسگو، جناب بشیر آرچرڈ صاحب اور جناب عبدالسلام صاحب میڈسن مبلغ ڈنمارک نے تقاریر فرمائیں۔کانفرنس کی آخری تقریر حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے فرمائی۔آپ نے فرمایا کہ وہ مذہب جو اس زمانہ میں دنیا کی تشویشناک حالت کو امن اور سکون سے بدل سکتا ہے، وہ صرف اسلام ہی ہے حضرت چوہدری صاحب موصوف نے احباب جماعت کو توجہ دلائی کہ وہ تبلیغ اسلام میں خاص طور پر سرگرم عمل ہو جائیں اور اس کے لئے ضروری ہے کہ سب سے ، اپنے آپ کو خالص اسلامی رنگ میں رنگین کر لیں۔تا کہ دیکھنے والے اسلام کی تعلیم کی صحیح تصویر ہر احمدی میں دیکھ سکیں۔آپ نے ظاہری شکل وصورت میں بھی نوجوانوں کو حضرت محمد رسول ﷺ کی تقلید کرنے کی تلقین فرمائی اور احمدی نوجوانوں کو داڑھی رکھنے کا ارشاد فرمایا۔آپ نے فرمایا کہ گو اعمالِ صالحہ سب سے ضروری حصہ ہیں۔لیکن انسان کو اپنی وضع قطع بھی صالحین کی سی بنالینی چاہیئے۔آپ نے اسراف سے بچنے کی بھی تلقین فرمائی اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اگر احباب خرچ کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے اموال میں بے اندازہ برکت دے گا۔