تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 731 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 731

تاریخ احمدیت۔جلد 23 731 سال 1966ء جاتا ہے مجھے اس کا بڑا تجربہ ہے میں روز دیکھتا ہوں کہ یہ خطرناک مرض ہے۔حضرت صاحب نے اس سے بچنے کا زور دیا ہے۔حضرت خلیفہ اسی الاول کی تو ثلث زندگی اسی پر وعظ کرتے گزری۔میں بھی تمہیں اکثر کہتا رہتا ہوں کہ بدظنی سے بچو احمدی اور مسلم کیا اور بدظنی کیا۔ان کا آپس میں تعلق ہی کیا ہے۔“ 65 66 (۲) دوسری چیز جو اتحاد کو توڑنے والی ہے وہ عضو کی صفت کا فقدان ہے۔حضرت خلیفہ اُسیح الثانی نے اسی خطبہ جمعہ میں فرمایا :۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو تین دن غصہ کی وجہ سے نہیں بولتا اس کا ہم سے تعلق نہیں۔معمولی سی بات ہوتی ہے اس پر بولنا چھوڑ دیتے ہیں اور مدتوں آپس میں نہیں بولتے عفو اور درگذر کا نہ ہونا بھی خرابیاں پیدا کرتا ہے۔۔۔اس کا نتیجہ شقاق اور افتراق ہے۔“ پس احباب جماعت کو یہ دو چیزیں مدنظر رکھنی چاہیئں۔(۱) بدظنی نہ کرو (۲) در گذر سے کام لو۔اللہ تعالیٰ آپ سب کے اخلاص میں برکت دے۔اپنی رضا کی راہ پر چلائے اور باحسن طریق پر خدمت دین کی توفیق دے۔آمین و السلام کے مرزا ناصر احمد خلیفہ اسیح الثالث 66 کانفرنس کی پہلی تقریر حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی تھی جس کا عنوان " THE NEED OF RELIGION IN THE NUCLEAR AGE" یعنی ایٹمی دور میں ضرورتِ مذہب۔حضرت چوہدری صاحب نے سائنس اور مذہب کے معانی اور مقاصد بیان کیے اور پھر بتایا کہ سائنس اور مذہب میں کسی قسم کا اختلاف نہیں ہے اور مغربی اقوام جو یہ جھتی ہیں کہ سائنس اور مذہب علیحدہ علیحدہ میدان ہیں۔یہ خیال بہت غلط فہمی پر مبنی ہے۔آپ نے یہ ثابت فرمایا کہ سائنس اور مذہب کسی طرح بھی ایک دوسرے سے مختلف نہیں ہو سکتے۔اس کے بعد حضرت چوہدری صاحب نے موجودہ دور کی بعض خامیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان تمام خرابیوں کا علاج نہ تو سائنسی ترقی میں ہے نہ ہی معاشرتی اور معاشی ترقی میں ہے۔اور نہ ہی سیاسی اور قانونی نظام کی بہتری میں ہے۔دراصل ان تمام خرابیوں اور خامیوں کا علاج ( جونسل انسانی کے