تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 729 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 729

تاریخ احمدیت۔جلد 23 729 سال 1966ء نوازے جیسا کہ احباب کو علم ہے۔ہمیں اس وقت مختلف قسم کی مشکلات درپیش ہیں۔اور ہمیں ایسے CHALLENGES کا سامنا کرنا پڑا ہے جو کہ ہمارے انقلاب کی بنیاد یعنی PANGHA SILA ( پانچ ارکانِ انقلاب انڈونیشیا) کو ہی سرے سے مٹادینا چاہتے ہیں۔لیکن آپ لوگوں کی دعاؤں اور ملک کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک کی رعایا کے ساتھ مل کر کوششوں کے نتیجہ میں ہمیں یقین ہے کہ PANGHA SILA کی اساس پر قائم کردہ انقلاب اور زیادہ ترقی کرے گا۔اور زمانہ کی تمام روکوں کا مقابلہ کرنے میں کامیاب ہوگا۔لیکن اس مقصد کے حصول کے لئے پہلی شرط یہ ہے کہ ہم سب کو قومی اتحاد اور قومی یگانگت کو استوار کرنا چاہیئے اور جیسا کہ اس سے پہلے بھی میں کئی دفعہ کہہ چکا ہوں کہ قومی اتحاد اور یگانگت کے لئے یا دوسرے الفاظ میں تعمیر ملک اور تعمیر کریکٹر کے لئے مذہب کا عصر ایک غالب عصر کی حیثیت رکھتا ہے۔اس لئے جماعت احمدیہ کے افراد کو میرا پیغام یہ ہے کہ آپ اسلامی آگ کی چنگاری کو متواتر فروزاں کریں۔اور اسلامی سپرٹ اور روح کو مسلسل زندہ رکھیں۔تا کہ ہم حقیقی طور پر دنیوی اور دینی لحاظ سے ایک مضبوط قوم بن جائیں۔میرا یقین ہے کہ جماعت احمدیہ انڈونیشیا کی یہ کانفرنس ہمارے انقلاب اور ہمارے ملک اور ہماری رعایا کے مفاد کی خاطر زیادہ سے زیادہ کامیابی حاصل کرے گی۔پریذیڈنٹ ری پبلک انڈونیشیا سوکارنو جا کرتا ۲۶ اگست ۱۹۶۶ء اس کا نفرنس میں ربوہ کے سالانہ جلسہ کا رنگ پہلے جلسوں کی نسبت بہت زیادہ نمایاں تھا۔اس میں فضل عمر فاؤنڈیشن فنڈ میں حصہ لینے کے لئے احباب نے والہانہ اخلاص کا ثبوت دیا۔تبلیغی جلسہ اور استقبالیہ جلسہ میں سابقہ جلسوں کی نسبت کہیں زیادہ حاضری تھی۔جلسہ کی افتتاحی اور اختتامی دعائیں مولوی امام الدین صاحب رئیس التبلیغ نے کرائیں۔انڈو نیشیا پریس اور جا کرتا اور بانڈ ونگ ریڈیو نے کانفرنس کی خبریں نشر کر کے انہیں پورے ملک تک پہنچا دیا۔انگلستان 63 امسال مسجد فضل لنڈن میں رمضان المبارک سے بھر پور فائدہ اٹھانے کا مناسب انتظام کیا گیا۔