تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 726 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 726

تاریخ احمدیت۔جلد23 726 سال 1966ء تو ایسے پر میٹر کا پتہ لگنا چاہیئے جو اپنے قصور وار بندوں کے گناہوں کو بخش دے اور مہربان ماں کی طرح اپنے سینے سے لگالے گورو صاحب نے اس کے جواب میں اپنے مخصوص نظریات کے اعادہ پر ہی اکتفاء کیا اور سامعین تسلی بخش جواب کے منتظر ہی رہے کہ مجلس ختم ہوگئی۔۵ تقسیم ملک کے بعد قادیان کی زیارت اور خاندان مسیح موعود علیہ السلام کے مقدس افراد سے شرف ملاقات بھارت کے دور دراز علاقوں میں پھیلے ہوئے احمدیوں کے لئے ایک مسئلہ بن چکا تھا اور غریب اور نادار بھارتی احمدی جو اس مقدس خاندان کے والہ وشیدا تھے، بے بس ہو کر رہ گئے تھے۔صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب نے انہی مجبور اور نا چار احمدیوں کے جذبہ عقیدت کے پیش نظر اس سال مع اہل و عیال شمالی ہند کا وسیع اور لمبا سفر اختیار فرمایا۔آپ ۳ را پریل ۱۹۶۶ء کو قادیان سے روانہ ہوئے۔اور ے جون ۱۹۶۶ء کو بخیریت قادیان دارالامان میں تشریف لائے۔اس کامیاب تبلیغی تنظیمی و تربیتی دورہ کے دوران آپ نے جماعت احمدیہ کیرنگ اور سونگھڑہ کے سالانہ جلسوں سے بھی خطاب فرمایا۔صوبہ اُڑیسہ کی جماعتوں کے دورہ کے بعد آپ نے کلکتہ میں مختصر سا قیام فرمایا جہاں میاں محمد عمر صاحب سہگل اور میاں محمد صدیق صاحب بانی کے خاندان کو آپ کی خدمت اور تواضع کا خوب موقع ملا۔اس سفر میں آپ جہاں جہاں تشریف لے گئے۔اظہار محبت وعقیدت کے بہت ایمان افروز مناظر دیکھنے میں آئے۔بوقت رخصت ہر احمدی مرد، عورت اور بچہ کی آنکھیں پرنم ہو جاتی تھیں۔اس سفر میں چوہدری مبارک علی صاحب بھی آپ کے ہمرکاب تھے اور انہوں نے اس کامیاب دورہ کی تفصیلی روداد کئی قسطوں میں مرتب کی جو بدر میں چھپ گئی۔۶۔صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب کے علاوہ مبلغین سلسلہ عالیہ احمد یہ مولوی بشیر احمد صاحب، مولوی سمیع اللہ صاحب، حکیم محمد دین صاحب اور مولوی محمد عمر صاحب نے جنوبی ہند کا تبلیغی اور تربیتی دورہ کیا۔امیر وفد الحاج سیٹھ محمد دین صاحب امیر جماعت احمدیہ حیدر آبا دو سکندر آباد تھے۔اسی طرح چوہدری سعید احمد صاحب بی۔اے آنرز نے تحریک جدید کے سلسلے میں صوبہ بہار اور 57- 59 اڑیسہ کا اور چوہدری فیض احمد صاحب گجراتی اور شیخ عبدالحمید صاحب عاجز نے جنوبی ہند کا دورہ کیا۔ے۔بھرت پور ضلع مرشد آباد میں مولوی شریف احمد صاحب امینی انچارج احمد یہ مشن کلکتہ کی تحریک پر مسجد کی تعمیر ہوئی اور اس کے لئے زمین شیخ یعقوب حسین صاحب صدر جماعت نے پیش کی اور اس کے اخراجات کلکتہ کے ایک مخیر احمدی دوست نے برداشت کئے۔