تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 725 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 725

تاریخ احمدیت۔جلد 23 725 سال 1966ء آنربیل چیف جسٹس پٹنہ ہائی کورٹ کے نام پر ایک کھلا خط لکھا جس میں بتایا کہ قرآن مجید نے یہ عالمگیر اصول پیش کیا ہے کہ خدا نے ہر ملک اور قوم کے لئے پیغمبر اور صلح بھیجے ہیں۔جو معصومیت کی ایک مکمل مثال تھے۔ان سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہو سکتا۔۔اس سال حیدرآباد، سونگھڑہ، لکھنو اور کالا پتھر اڑیسہ ) وغیرہ میں کامیاب جلسے ہوئے۔51 54 ۴۔اس سال تقسیم لٹریچر کی طرف مبلغین سلسلہ اور مخلصین جماعت نے خاص توجہ دی۔جیسا کہ اوپر ذکر آچکا ہے جناب محب اللہ صاحب آئی۔اے۔ایس (ریٹائرڈ)، سیکرٹری پنجاب وقف بورڈ ۲۵ فروری ۱۹۶۶ء کو قادیان تشریف لائے تو حضرت مولوی عبد الرحمن صاحب جٹ نے انہیں ترجمہ قرآن مجید انگریزی اور جماعت کا تبلیغی لٹریچر پیش کیا۔۲۴ مئی ۱۹۶۶ء کو یاد گیر میں مرکزی وزیر صنعت و حرفت جناب ڈی۔سنجیو یا صاحب سے جماعت احمدیہ کے ایک وفد نے مولوی محمد اسماعیل صاحب غوری امیر جماعت کی قیادت میں ملاقات کی اور کتاب اللہ کے انگریزی ترجمہ کا نسخہ بطور تحفہ پیش کیا۔۷ راگست ۱۹۶۶ء کو صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب روٹری کلب بٹالہ کے ممبر کی حیثیت سے رادها سوامی ست سنگ بیاس (ڈیرہ بابا جیمل سنگھ ) ایک میلہ میں شرکت فرمائی۔رادھا سوامی تحریک کے گورو سردار چرن سنگھ جی مہاراج نے عبادت گاہ کے ہال میں آتما اور پر ماتما کے تعلق اور بھگتی پر اپنے نقطہ نظر سے روشنی ڈالی۔بعد ازاں روٹری کلب کے مدعو مہمانوں کو ست سنگ کے عالیشان مہمان خانہ میں پہنچادیا گیا۔جہاں گورو صاحب کی آمد پر ایک مجلس منعقد ہوئی۔صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب نے گور وصاحب کو قرآن مجید کا انگریزی ترجمہ اور بعض دوسری کتب کا روحانی تحفہ پیش کیا۔جسے انہوں نے احترام کے ساتھ قبول فرمایا اور پھر خاصی دیر تک صاحبزادہ صاحب سے گفتگو کرتے رہے۔ازاں بعد سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا۔جس پر چوہدری مبارک علی صاحب ( آپ ان دنوں ایڈیشنل ناظر امور عامہ کے فرائض سرانجام دے رہے تھے ) درویش قادیان نے تخلیق روح اور آواگون یعنی نظریۂ تناسخ کی وضاحت چاہی۔اور دریافت کیا کہ اگر پر میشر نے روحوں کو اپنی خوشی کی خاطر پیدا کیا ہے۔تو پھر انہیں جونوں کے لامتناہی چکر میں کیوں ڈال دیا؟ ماں اپنے بچے کے قصور معاف کر دیتی ہے۔لیکن کیا پر میشر میں ماں جتنا بھی پیار نہیں کہ کوئی اس کے آستانے پر گر کر خواہ کتنا ہی گڑ گڑائے۔پر میشر ہرگز اس کے گناہ معاف نہیں کرتا۔اور انسان کو اپنے کرموں کا پھل ضرور بھگتنا پڑتا ہے ہمیں