تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 724
تاریخ احمدیت۔جلد 23 724 سال 1966ء دے کر سبھی کو حیرت زدہ کر دیا اور ڈاکٹر لیوک ایک لفظ نہ بول سکے۔آخری مقرر مسٹر تھوما اور صدر جلسہ نے اپنے ریمارکس میں یہ اعتراف کیا کہ آج کی مجلس پر 166 اسلامی خیالات ہی کا غلبہ رہا۔۱۶ را پریل ۱۹۶۶ء کو تھیو سافیکل سوسائٹی کلکتہ کے ۴۷ ویں اجلاس منعقدہ ہرندر میموریل ہال میں مولوی شریف احمد صاحب امینی مبلغ کلکتہ نے اسلام میں عالمگیر اخوت“ BROTHERHOOD IN ISLAM کے موضوع پر ایک کامیاب تقریر فرمائی۔یہ تقریر نہایت توجہ اور ذوق و شوق سے سنی گئی اور ہال تالیوں سے گونج اُٹھا۔صدر جلسہ پروفیسر نرائن داس باسو ( شعبہ فزکس کلکتہ یونیورسٹی) نے آپ کی تقریر پر بہت ہی شاندار ریویو REVIEW دیا۔اور مسز شری مہتہ اپنی انگریزی تقریر میں بار بار کہتی رہیں کہ مولانا امینی صاحب کی تقریر کے بعد میرے لئے بولنے کی گنجائش نہیں کیونکہ تھیو سا فیکل جس قسم کا بھائی چارہ پیدا کرنا چاہتی ہے اور اس کے لئے جو اصول پیش کرتی ہے وہ سب اس میں موجود ہیں۔بہتیرے لوگوں نے مکرم امینی صاحب کا شکریہ ادا کیا اور اقرار کیا کہ اس قسم کی تقریر اُن کی 49 زندگی کا پہلا موقع ہے۔۲۔گورداسپور کے ایک ہفت روزہ "پر بودھ جگت کے ایڈیٹر شری ستیہ پال نندہ نے اپنے اخبار کی ۱۶ را گست ۱۹۶۶ ء کی اشاعت میں مسلمان بادشاہوں کے حالات زندگی کی آڑ میں اسلام اور آنحضرت ﷺ کے خلاف قابل نفرت و حقارت پراپیگنڈہ شروع کر کے مسلمانانِ ہند کے جذبات کو مجروح کیا۔اس ہتک آمیز اور زہر آلود مہم کے خلاف اخبار بدر قادیان نے ۸ ستمبر ۱۹۶۶ء کو پُر زور آواز میں احتجاج بلند کیا اور حکومت کو توجہ دلائی کہ وہ اس دل آزار تحریر کے خلاف موثر اقدام کرے نیز لکھا اسلام اور پیغمبر اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ دنیا بھر کی سب قوموں اور ملکوں کے مذہبی رہنماؤں اور بزرگوں کو عزت سے یاد کرو۔ہم بحیثیت ایک سچے مسلمان ہر مذہب کو بنیادی طور پر سچا مانتے ہیں اور سب رسولوں ، رشیوں اور او تاروں کو بزرگ تسلیم کرتے ہیں۔پٹنہ میں ”بہار ریسرچ سوسائٹی کے سالانہ اجتماع عام میں رامچندر جی کے کردار پر مسٹر جسٹس ستیش چندر مشرا SATISH CHANDAR MISHRA کی زیر صدارت ایک مباحثہ ہوا۔جس میں حضرت رامچندر جی کی شخصیت پر نہایت نامناسب تنقید کی گئی۔مباحثہ کی روداد ۱۳ جون ۱۹۶۶ء کو اخبار انڈین نیشن INDIAN NATION میں شائع ہوئی تو سید فضل احمد صاحب نے 50