تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 700
تاریخ احمدیت۔جلد 23 700 سال 1966ء صاحب کی تبلیغ سے ان کے دوست حافظ محمد عبداللہ صاحب بھی بیعت میں داخل ہوئے۔پاکستان بننے کے بعد یہاں سے جب حضرت صاحب نے ایک قافلہ درویشوں کا قادیان بھیجنا چاہا تو حاجی صاحب مرحوم نہایت شوق اور اخلاص سے اس میں شامل ہوئے اور اس عزم سے قادیان جا کر رہے کہ باقی زندگی وہیں گزارنی ہے اور ان کا مسکن اور مدفن آئندہ قادیان میں ہو۔اس عزم پر جس پختگی اور بشاشت قلب سے وہ قائم رہے وہ ایک مثالی بات ہے۔کبھی کبھی پاکستان آیا کرتے تھے لیکن ان کا دل قادیان میں ہی ہوتا تھا۔بعض موقعے ایسے بھی پیش آئے کہ حاجی صاحب کو قادیان میں رہنے کے لیے بڑی سے بڑی قربانی کا موقعہ پیش آیا لیکن ان کے پائے استقلال میں کوئی فرق نہ آیا۔وہ خود کو قادیان کی درویشی میں بڑا خوش نصیب اور فضل الہی کا مور د یقین کرتے تھے۔اسی حالت میں انہوں نے گزشتہ انیس (۱۹) سال قادیان کی درویشی میں گزارے۔بڑے اطمینان اور خوشی سے یہ مرحلہ عبور کرنے کی اللہ تعالیٰ نے انہیں توفیق دی۔تا آنکہ وہ اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے اور ان کی نیت اور مراد پوری ہوگئی۔قادیان میں ہمارے جس قدر درویش آباد ہیں ان میں یہی رنگ اور خصوصیت پائی جاتی ہے۔ان کا عزم واستقلال اور للہیت اور قادیان میں سکونت اختیار کرنا ایسی فدا کاری ہے جس کی نظیر بہت کم پائی جاتی ہے۔107 766 سید سردار حسین شاہ صاحب وفات : ۱۶ دسمبر ۱۹۶۶ء محترم شاہ صاحب ۱۹۱۵ء میں بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔کافی عرصہ تک الیں۔ڈی۔او کے طور پر ملازمت کرتے رہے۔۱۹۳۲ء میں ہجرت کر کے قادیان چلے گئے۔اور وہاں پر لمبے عرصہ تک افسر تعمیر کے طور پر سلسلہ کی خدمت بجالاتے رہے۔قیام پاکستان کے کچھ عرصہ بعد سیدنا حضرت اصلح الموعود کے ارشاد پر ہجرت کر کے ربوہ تشریف لے آئے۔اور یہاں پر لمبے عرصہ تک افسر تعمیر کے طور پر سلسلہ کی خدمت بجالاتے رہے۔مرحوم بہت نیک اور مخلص احمدی تھے۔صوم وصلوۃ کے پابند اور تہجد گزار تھے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی سے عقیدت و محبت کا خاص تعلق تھا۔حضور بھی ان سے بہت شفقت و محبت کا سلوک فرماتے تھے۔108