تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 699
تاریخ احمدیت۔جلد 23 699 سال 1966ء میں قریباً ایک ماہ قیام فرمایا تھا۔جہاں سے چھیل کوثر ناگ وغیرہ کی سیر بھی کی تھی۔ان ایام میں حضرت ام ناصر احمد سخت بیمار ہوگئیں۔لگا تار تیز بخار کی وجہ سے ٹائیفائیڈ کا شبہ ہو گیا۔جس کے لیے ہمیں کلورین مکسچر کی ضرورت پیش آگئی۔اس مکسچر کے اجزاء ہمیں شہر سرینگر سے جو وہاں سے ساٹھ میل کے فاصلہ پر تھا مل سکتے تھے۔جس کیلئے حضور نے نیک محمد خان صاحب مرحوم کو بھیجا جانا تجویز کیا۔چنانچہ مرحوم نے گھوڑے کی پیٹھ پر سفر کرتے ہوئے ۲۴ گھنٹہ کے اندر سرینگر سے ادویہ حاضر کیں۔مکسچر خدا تعالیٰ کے فضل سے مفید ثابت ہوا اور حضرت ام ناصر کا بخار ٹوٹ گیا۔اس مثال سے نیک محمد خان صاحب مرحوم کی خدمات محمود کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت کرے اور انہیں جنت میں بلند مقام نصیب کرے۔حاجی فضل محمد صاحب درویش کپور تھلوی وفات: ۲۶ نومبر ۱۹۶۶ء بڑے دعا گو بزرگ تھے۔تبلیغ حق کرنا ان کا محبوب مشغلہ تھا۔پنجابی شلوک از بر تھے۔دعوت الی اللہ کے کسی موقعے کو ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے۔اپنے غیر احمدی رشتہ داروں کو سلسلہ کا لٹریچر اور مرکزی اخبارات اپنے خرچ پر وقتا فوقتاً بھجواتے رہتے تھے۔حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر کے قلم سے حاجی صاحب کے حالات زندگی درج ذیل کئے 106 جاتے ہیں :۔”حاجی صاحب مرحوم موضع بجولہ ریاست کپورتھلہ کے رہنے والے تھے۔ملازمت سے سبکدوش ہو کر جب کپورتھلہ آئے تو خاکسار کے والد مرحوم سے ان کا تعلق پیدا ہو گیا۔غالبا یہ ۱۹۲۰ء کے قریب کی بات ہے۔والد صاحب کی تبلیغ سے حاجی صاحب جماعت احمدیہ میں داخل ہو گئے اور اس کے بعد انہوں نے روز بروز اخلاص اور قربانی میں ترقی کی۔اپنے گاؤں سے پیدل چل کر کپورتھلہ میں جمعہ پڑھنے کے لیے آیا کرتے تھے اور والد صاحب مرحوم انہیں ہر جمعہ کے بعد ایک دو دن کے لیے اپنے پاس مہمان ٹھہرا لیتے تھے۔اور سلسلہ کی روایات اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حالات زندگی حاجی صاحب کو سنایا کرتے تھے۔اس طریق پر حاجی صاحب نے بڑے اخلاص کا رنگ اختیار کیا اور وہ بڑے شوق سے تبلیغ کیا کرتے تھے۔گو ان کی تعلیم معمولی تھی لیکن بہت ذہین آدمی تھے۔ایسی منطقی جرح کرتے اور مسائل کو ایسے طریق پر پیش کرتے کہ مخالف لا جواب ہو جاتا۔حاجی