تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 701
تاریخ احمدیت۔جلد 23 701 سال 1966ء شاہ صاحب کی بیٹی سیدۃ الزہراء صاحبہ ایم۔اے تحریر فرماتی ہیں:۔ابا جان مرحوم سلسلے کے ایک مخلص کارکن تھے۔نماز کے پابند ،کم گوئی اور معاملات میں ایمانداری ان کے اخلاق کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ربوہ کے قیام پر قادیان کے روز و شب ہر وقت ان کو یاد آتے ایک دفعہ ان کو ربوہ آنے کا اتفاق ہوا تو حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب مرحوم اُن کو حضور کے پاس لے گئے کہ ان کی مجھے بڑی ضرورت ہے۔حضور نے آپ کو یہاں آنے کا ارشاد فرمایا۔اسی وقت اپنے تمام کام کو پس پشت ڈال کر حضور کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ربوہ آیسے اور کافی عرصہ سیکرٹری تعمیر کی آسامی پر متعین ہو کر خلوص دل اور نیک نیتی سے سلسلہ کی خدمت کرتے رہے اور اس عرصہ میں ان کوئی آئی ہائی سکول ، ٹی آئی کالج اور جامعہ نصرت جیسی اہم عمارتوں کو بنوانے کی سعادت نصیب ہوئی۔خلیفہ وقت سے حد درجہ عقیدت اور محبت تھی۔حضور کی ذاتی کوٹھیاں بھی اپنی زیر نگرانی تعمیر کروا ئیں۔اور اس سلسلے میں حضور نے بطور انعام انہیں کافی رقم دی۔آپ نے اسی وقت حضور کی خدمت میں وہ ساری رقم بطور نذرانہ پیش کر دی۔حضرت سیدہ مہر آپا نے آپ کو اتنی بڑی رقم پیش کرنے سے روکنے کی بڑی کوشش کی۔کیونکہ ان دنوں ہماری مالی حالت اچھی نہیں تھی۔مگر آپ وہ رقم گھر میں نہ لائے مبادا بچوں کی کسی ضرورت کے پیش نظر ان کے قدم نہ ڈگمگا جائیں۔پنشن کے بعد بڑے بھائی مرحوم نے ہم سب کو عارف والا واپس لے جانے کی بہت کوشش کی مگر آپ کو ر بوہ کی مٹی کچھ اتنی عزیز تھی کہ اس کی جدائی گوارا ہی نہیں کر سکتے تھے اور آخری وقت میں وہ اسی مٹی میں گر کر حرکت قلب بند ہونے سے انتقال فرما گئے۔اپنے معاملات میں اس حد تک صاف تھے کہ وفات کے دنوں میں بھی وہ کسی کا مکان بنوار ہے تھے۔مگر اس کا حساب کتاب بالکل صاف تھا۔اپنے ماتحتوں کو اجرت کے لئے بالکل پریشان نہ کرتے تھے۔بلکہ اس حدیث پر پوری طرح عمل کرتے کہ " مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اسے اجرت دے دینی چاہیے۔شاید یہی وجہ تھی کہ وہ دوسری عمارتیں بنواتے وقت اپنا ذاتی پیسہ بھی اس میں لگا دیا کرتے تا کہ مزدوروں کو پریشان نہ ہونا پڑے۔لیکن خود اس کے لیے بعد میں بڑی پریشانی اٹھاتے۔مرحوم موصی تھے اور اپنا تمام حساب وفات سے پہلے بیباق کر چکے تھے۔