تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 677 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 677

تاریخ احمدیت۔جلد 23 677 سال 1966ء واقف تھے۔تبلیغ کا جوش رکھتے تھے۔بڑے باہمت انسان تھے۔باوجود بڑھاپے کے مسجد میں آکر نمازیں باجماعت ادا کرتے تھے۔وہ احمدیوں اور غیر از جماعت دوستوں کے لئے ایک نیک نمونہ تھے۔۱۹۱۳ء میں کوئٹہ کی نواحی بستی میں بطور ڈاکٹر متعین ہوئے۔۱۹۱۴ء میں فوج میں ڈاکٹر کی حیثیت سے فرانس تشریف لے گئے۔پھر ۱۹۱۹ء میں کوئٹہ کے سول ہسپتال میں بطور ڈاکٹر متعین ہوئے اور ۱۹۳۴ء میں پنشن لے کر ہجرت کر کے قادیان تشریف لے گئے۔۱۹۴۷ء کے مُفسدہ میں مع بچوں کے کوئٹہ تشریف لے آئے۔اور اسی جگہ وفات پائی۔آپ کی عمر بوقت وفات انداز اکیاسی برس کی تھی۔آپ وہ خوش قسمت انسان تھے ، جنہیں ابتدائے خلافت ثانیہ میں (جب نظام امارت قائم ہوا) جماعت احمدیہ کوئٹہ کی بحیثیت امیر خدمت سرانجام دینے کی سعادت نصیب ہوئی۔اور ریٹائر منٹ تک آپ متواتر امیر رہے۔اس کے بعد آپ کے فرزند رشید میاں بشیر احمد صاحب بھی امیر جماعت رہے۔66 سید فضل الرحمن صاحب فیضی آف منصوری وفات: ۱۵ فروری ۱۹۶۶ء خلافت ثانیہ کے مُبارک دور میں داخلِ احمدیت ہوئے اور اخلاص میں بہت ترقی کی۔نہایت مخلص علم دوست اور احمدیت کے فدائی تھے۔بچپن کی عمر میں اپنے والد سید عبدالوحید صاحب کے ہمراہ تین سال تک مکہ معظمہ رہے۔آپ کے والد کو آپ کی بیعت کے بعد بیعت کی سعادت نصیب ہوئی۔قیام پاکستان سے قبل کئی سال تک جماعت احمدیہ منصوری کے جنرل سیکرٹری رہے۔دینی غیرت آپ میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ابتلاؤں میں ثابت قدم رہ کر اپنے عاشق احمدیت ہونے 84 کا عملی ثبوت بہم پہنچایا۔قاضی محمد رشید صاحب وکیل المال وفات: ۲۵ فروری ۱۹۶۶ء نہایت مخلص، احمدیت کے فدائی اور قرآن مجید سے خاص شغف رکھنے والے دُعا گو بزرگ تھے۔سرکاری ملازمت کے دوران راولپنڈی، نوشہرہ، کوئٹہ اور پونا میں نائب امیر اور امیر جماعت کی حیثیت سے جہاں بھی رہے قرآنِ مجید کا درس دیتے رہے۔آپ نے دسمبر ۱۹۵۴ء میں خدمت دین