تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 660 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 660

تاریخ احمدیت۔جلد 23 660 سال 1966ء حضرت منشی محمد عبد اللہ صاحب سیالکوٹی ولادت: ۱۸۸۷ء بیعت : ۱۹۰۲ء وفات: ۳۱ را گست ۱۹۶۶ء 49 حضرت مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوٹی کے شاگرد تھے۔تبلیغ کا خاص ملکہ اور شوق رکھتے تھے۔بہت مخلص اور دعا گو بزرگ تھے۔آپ نے دو فرزند ، ایک بیٹی اور متعدد پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں اپنی یادگار چھوڑے۔آپ کا جنازہ سیالکوٹ شہر سے ربوہ لایا گیا اور یکم ستمبر کو آپ کی تدفین بہشتی مقبرہ قطعہ صحابہ میں ہوئی۔اولاد ا۔خواجہ عبد الحئی صاحب۔۲۔خواجہ عبدالرحمن صاحب حضرت قاضی محمد ظہور الدین اکمل صاحب ولادت : ۲۵ مارچ ۱۸۸۱ء بیعت: ۱۸۹۷ء وفات : ۲۷ ستمبر ۱۹۶۶ء آپ کے فرزند جناب عبد الرحمن جنید ہاشمی صاحب تحریر فرماتے ہیں:۔ابی المکرم ۲۵ مارچ ۱۸۸۱ء کو پنجاب کی مردم خیز سرزمین میں دریائے چناب کے کنارے ضلع گجرات کے ایک گاؤں گولیکی میں پیدا ہوئے۔آپ کے جدامجد ( مولا نا محمد بدرالدین ) اور والد ماجد مولانا ابوالا کمل محمد امام الدین ) دونوں علوم عقلیہ و نقلیہ کے متبحر عالم تھے۔اگر چہ آپ نے دنیوی تعلیم مشن ہائی سکول گجرات میں میٹرک تک حاصل کی۔لیکن عربی وفارسی ،فقہ وحدیث اور علوم قرآنی پر ( دستور کے مطابق ) مسجد اور خانقاہوں میں عبور پایا۔آپ کو اردو علم وادب اور صحافت سے بچپن۔ہی لگاؤ تھا چنانچہ سترہ برس کی عمر ہی میں آپ کے مضامین نظم و نثر برصغیر کے تمام قابل ذکر اخبارات ورسائل میں شائع ہونے لگ گئے تھے۔۱۹۰۴ ء تک آپ اپنی عمر سے دگنی تعداد میں رسائل و کتب چھپوا چکے تھے۔جس میں ایک دیوان ”سبحۃ المرجان شامل ہے۔اس کے علاوہ نقص القرآن منظوم ( پانچ ہزار اشعار ) ، سورہ یسین، چاروں قل، ادعیۃ القرآن اور منتخب احادیث (منظوم) بھی اسی زمانہ میں منظر اشاعت پر آئیں۔۱۹۰۰ ء کے بعد 9 برس تک آپ تپ لازم اور دیگر امراض کا شکار ہوکر صاحب فراش رہے۔تاہم اسی حالت میں اسلامی معاشرہ کی اصلاح وارشاد کے بارے میں ملک بھر کے اخبارات کو اپنے مضامین بھجواتے رہے۔چنانچہ صرف ایک سال (۱۹۰۴ء ) میں آپ کے پچاسی