تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 661 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 661

تاریخ احمدیت۔جلد 23 661 سال 1966ء مضامین اٹھارہ مختلف اخبارات میں شائع ہوئے۔جن میں سے چودھویں صدی ،لاہور پہنچ ، صدائے ہند ، زمیندار، وکٹوریہ پیپر، سیالکوٹ پیپر گزار ہند، پنجاب آرگن ، پنجاب سماچار، پٹیالہ اخبار سر فہرست ہیں۔آپ چونکہ ۱۸۹۷ء میں ہی سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت سے مشرف ہو چکے تھے۔اس لئے دسمبر ۱۹۰۶ء میں گھر بار چھوڑ کر اپنے آقا و مقتدا کے حضور اس نیت کے ساتھ حاضر ہو گئے کہ ہم قادیان کو چھوڑ کے ہرگز نہ جائیں گے کوچے میں اپنے یار کے دھونی رمائیں گے دو پہر کی نماز کے بعد حضرت اقدس کی خدمت میں باریابی کا شرف حاصل ہوا تو فی البدیہ وہ نظم پڑھی جس کے دوا شعار یہ ہیں۔آتش فرقت محبوب نے جب گرمایا جذبہ شوق زیارت مجھے پھر لے آیا کیا کہوں ہجر کی گھڑیاں ہیں گزاریں کیوں کر دل شیدا کو تری یاد نے کیا تڑپایا اس کے ساتھ ہی آپ نے روایتی شاعری ، زلف و گیسو اور گل و بلبل کی حکایتوں کو خیر آباد کہا اور اسلامی معاشرہ اور مذہبی احکام و حقائق کی اشاعت و تبلیغ کے لئے اپنے ذہن و عمل کو وقف کر دیا۔۱۹۱۱ء تک آپ نے اخبار بدر میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر کام کیا۔(جنوری ۱۹۰۷ء تا اکتو برا۱۹۱ء) اس کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے آپ کو رسالہ تشحیذ الا ذہان (ستمبر ۱۹۱۱ء تا مارچ ۱۹۲۲ء) کا ایڈیٹر مقرر کر دیا۔۱۹۲۰ء میں ریویو آف ریلیجنز کی ادارت کے علاوہ آپ نے ناظم طبع و اشاعت مہتم کا عہدہ سنبھالا۔جس کے تحت قادیان سے شائع ہونے والے سلسلہ کے تمام اخبار و رسائل، الفضل، مصباح ، سن رائیز اور احمد یہ گزٹ وغیرہ کی ایڈیٹری و مینجری آپ خود کرتے رہے۔۱۹۳۸ء میں ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد خانہ نشین رہے۔تاہم مشق سخن برابر جاری رہی پاکستان کے قیام پرا ارا کتوبر ۱۹۴۷ء کے بعد لاہور میں فروکش رہے اور ے استمبر ۱۹۵۶ء کو حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے بلانے پر دارالصدر شرقی کے ایک کوارٹر میں رہائش اختیار کر لی جہاں ۲۷ ستمبر ۱۹۶۶ء کو صبح چھ بجے