تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 659 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 659

تاریخ احمدیت۔جلد 23 659 سال 1966ء شبہات دل سے نکل گئے۔اور میں نے آپ کی بیعت کر لی۔فالحمد للہ علی ذالک اس جگہ اس بات کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے۔کہ جب ۱۹۲۴ء میں حضرت خلیفہ مسیح الثانی یورپ میں کانفرنس میں شمولیت کے لئے تشریف لے گئے تو مجھے بطور باور چی حضور اپنے ساتھ لے گئے۔فالحمد للہ اس کے علاوہ ۱۹۵۵ء میں بھی آپ کو حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے ہمراہ یورپ جانے کا شرف حاصل ہوا۔اولاد بیٹے مکرم عبدالحمید صاحب، مکرم عبدالکریم صاحب، مکرم عبدالمجید صاحب بیٹیاں: محترمہ حمیدہ بیگم ( ان کی ایک نواسی مکرم خواجہ مظفر احمد صاحب آف سیالکوٹ شہر کی اہلیہ ہیں )، محترمہ علمی بیگم صاحبہ محترمہ سعیدہ بیگم صاحبہ ( یہ پارٹیشن کے وقت پٹیالہ سے آتے ہوئے شہید ہوگئیں۔) حضرت بیگم صاحبہ عرف بیگاں آف سرگودھا ولادت ۱۸۹۲ء۔بیعت ۱۹۰۷ء۔وفات ۲۷ /اگست ۱۹۶۶ء۔آپ محترم عمر الدین بنگوی صاحب کی اہلیہ اور مکرم شیخ محمد عمر انور صاحب بنگوی کلاتھ مرچنٹ سرگودھا کی والدہ محترمہ تھیں۔آپ کے خاوند کا انتقال ۱۹۲۷ء میں ہو گیا تھا۔آپ کے تین لڑکے اور دولڑکیاں تھیں۔آپ نے بڑے صبر، استقامت اور حوصلہ سے اپنے ایمان کی حفاظت اور بچوں کی پرورش کی۔خاوند کی وفات کے وقت تمام بچے نابالغ تھے۔غیر احمدی رشتہ داروں نے آپ پر دباؤ ڈالا کہ احمدیت چھوڑ دو ہم آپ کے بچوں کے رشتے اپنے گھرانوں میں کر لیں گے۔مگر آپ نے ان کو یہ جواب دیا کہ میرا خدا خود میرے بچوں کا نگران ہوگا۔یہ احمدیت کی وجہ سے شادی سے محروم نہیں رہیں گے۔میں آپ کی امداد کی محتاج نہیں اور نہ ہی امداد قبول کروں گی۔بالآخر اس نیک خاتون کی شب و روز کی دعاؤں کا ثمرہ یہ نکلا کہ اس کے پانچوں بچوں کی اولاد آج کم و بیش چالیس افراد پر مشتمل ہے اور یہ سارا خاندان سلسلہ احمدیہ کا مخلص خادم ہے۔سلسلہ کے مالی جہاد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والا ہے اور اپنے غیر از جماعت رشتہ داروں سے ہر لحاظ سے ممتاز ہے۔