تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 658 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 658

تاریخ احمدیت۔جلد 23 658 سال 1966ء ترک نہ کر سکے۔لیکن تقریباً بیاسی سال عمر میں انہوں نے یہ عادت چھوڑ دی۔اور دوبارہ اس کا نام تک نہ لیا۔44 حضرت میاں رحم دین صاحب ولادت: قریباً ۱۸۸۵ء بیعت وزیارت: ۱۹۰۲ ء یا ۱۹۰۳ء وفات: ۱۵،۱۴ جولائی ۱۹۶۶ء آپ نے ۱۲ فروری ۱۹۳۸ء کو یہ تحریری بیان دیا:۔میں حضرت نواب محمد علی خان صاحب رئیس و جا گیر دار مالیر کوٹلہ کے ذریعہ قادیان میں آیا۔اور حضرت نواب صاحب کے ہاں باورچی کا کام کرتا تھا۔جہاں احمد نور کا بلی کی دکان تھی۔وہاں حضرت نواب صاحب کا باورچی خانہ تھا۔اور میں وہاں ہی کام کرتا تھا۔اور نمازیں وغیرہ مسجد مبارک میں ہی پڑھا کرتا تھا۔اس وقت ابھی مسجد مبارک کی توسیع ہوئی تھی۔مجھے مولوی محمد اکرم صاحب، جو ایک پرانے احمدی تھے۔اور حضرت نواب صاحب موصوف کے بچوں (کے) اتالیق تھے تبلیغ کیا کرتے تھے۔لیکن میں نے فقط تبلیغ پر ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت نہیں کی بلکہ حضور کے بہت سے نشانات دیکھ کر اور خوابوں اور رؤیا کی بناء پر حضور علیہ السلام کے دست مبارک پر حضور کی بیعت کی۔میاں صفدر علی صاحب مرحوم ملازم حضرت نواب صاحب موصوف ( والد صالح علی صاحب) نے ایک دفعہ میرے ساتھ مشورہ کیا کہ میں حضرت اقدس سے عرض کرتا ہوں کہ مجھ کو رہائش کے واسطے کوئی مکان یا زمین یا کوئی امداد عطا فرمائیں۔جب حضور علیہ السلام کے سامنے میاں صفدر علی صاحب مرحوم نے یہ درخواست کی تو حضور علیہ السلام نے فرمایا۔کہ میاں صفدر علی اس وقت ہمارے پاس کوئی زمین یا مکان نہیں ہے تم تھوڑی دیر صبر کرو۔یہ سب ارد گرد کی زمینیں احمدیوں کے ہاتھ میں آنے والی ہیں۔چنانچہ یہ حضور کی بات ہمارے سامنے پوری ہو چکی ہے۔خلافت ثانیہ کے وقت میں نے رویا میں دیکھا کہ مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے کرسی پر بیٹھے ہیں۔اور میاں صاحب (خلیفتہ اسیح الثانی) پاس کھڑے ہیں۔تب میرے دیکھتے دیکھتے مولوی محمد علی صاحب کا چہرہ اور جسم چھوٹا ہونا شروع ہوا۔اور بالکل چھوٹا ہو گیا۔جیسے بچے کا جسم ہوتا ہے۔اور حضرت میاں صاحب کا جسم بڑھتے بڑھتے بہت لمبا ( یعنی آپ کے قد سے بھی زیادہ قد وغیرہ ہو گیا ) اور بڑے رعب و جلال والا ہو گیا۔تب میں بہت متعجب ہوا۔اور جس وقت صبح ہوئی۔تو تمام شکوک و