تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 608 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 608

تاریخ احمدیت۔جلد 23 608 سال 1966ء دور ونزدیک سے حضور کی تشریف آوری کی خبر سن کر جمع ہو گئے۔بشیر آباد کی وسیع و عریض مسجد مردوں سے کھچا کھچ بھر گئی۔اور مستورات کے لئے ساتھ کے مکانوں میں انتظام کرنا پڑا۔لاؤڈ سپیکر کا انتظام تھا اس لئے جملہ حاضرین تک خطبہ کی آواز بخوبی پہنچ گئی۔حضور نے نماز جمعہ پڑھائی۔خطبہ جمعہ میں حضور نے بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مان کر ہمیں کیا فیوض حاصل ہوئے۔حضور نے فرمایا کہ ہمیں تین چیزیں حاصل ہوئیں۔زندہ خدا زندہ رسول اور زندہ کتاب یعنی قرآن کریم۔حضور کا یہ خطبہ نہایت بلیغ ، موثر اور پُر معارف تھا۔حضور نے نماز جمعہ اور نماز عصر جمع کر کے پڑھائیں اس کے بعد پانچ افراد سے بیعت لی۔بیعت لینے کا نظارہ بہت مؤثر تھا۔حضور بیعت کے الفاظ اونچی آواز سے ارشاد فرماتے اور جملہ حاضرین بلند آواز سے حضور کی اتباع میں الفاظ دہراتے تھے۔اس طرح تمام حاضرین نے حضور کے ہاتھ پر دستی بیعت کا شرف حاصل کیا۔اس کے بعد حضور نے احباب کو شرف مصافحہ بخشا۔مصافحہ کے وقت حضور احباب سے ان کی خیریت اور دیگر حالات بھی دریافت فرماتے جاتے تھے۔کوٹ احمدیاں ۱۲ نومبر کو صبح ۷ بجے حضور ناصر آباد اسٹیٹ کے لئے موٹر کاروں پر روانہ ہوئے۔راستہ میں کوٹ احمدیاں واقع تھا۔وہاں کے احباب نے حضور کی خدمت میں گذارش کی ہوئی تھی کہ وہاں سے گذرتے ہوئے حضور گاؤں میں تشریف لا کر دعا فرمائیں۔چنانچہ حضور معہ محترمہ بیگم صاحبہ ورفقاء قافلہ کوٹ احمدیاں میں تشریف لے گئے۔احباب جماعت نیز غیر از جماعت دوست بھی قطاروں میں حضور کی پیشوائی کے لئے کھڑے تھے۔حضور نے سب سے مصافحہ فرمایا چھوٹے چھوٹے بچے بھی حضور سے مصافحہ کے لئے کھڑے تھے۔حضور نے از راہ شفقت ان سے بھی مصافحہ کیا۔اور پھر چوہدری عبدالغفور صاحب کے بنگلہ پر تشریف لے گئے وہاں حضور نے معہ رفقاء ناشتہ تناول فرمایا۔اس جگہ پر حضور کی آمد کا یادگاری کتبہ بھی لگایا گیا ہے۔اس موقعہ پر جماعت احمد یہ کوٹ احمدیاں کی طرف سے ایک ہزار روپیہ نقد بطور چندہ فضل عمر فاؤنڈیشن حضور کی خدمت میں پیش کیا گیا۔جو حضور نے قبول فرمایا یہ چندہ اس وعدہ کے علاوہ ہے جو یہ جماعت اس سے قبل فضل عمر فاؤنڈیشن کے لئے کر چکی ہے۔کوٹ احمدیاں میں ڈگری، ٹنڈو غلام علی، چک ۱۵۱ کے احباب بھی جمع تھے اس کے بعد حضور مسجد میں تشریف لے گئے جونئی تعمیر کی گئی ہے۔وہاں حضور نے اجتماعی دعا فرمائی