تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 601
تاریخ احمدیت۔جلد 23 601 سال 1966ء شمار ہوں جس کا قرآن کریم اھدی سبیلا“ کے الفاظ میں ذکر فرماتا ہے۔تا شرط زندگی و توفیق ایز دی ہم سب خدام احمد بیت دوسال کے لئے ایک ایسے سفر میں شریک رہیں گے۔جس کی قیادت کی ذمہ داری حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اس عاجز کے کندھوں پر ڈالی ہے۔اپنی بے بضاعتی اور نا اہلی پر جب نظر پڑتی ہے تو دل خوف کھاتا ہے تاہم اپنے غفور رحیم خدا کی رحمت بے پایاں اور غفاری سے بھاری اُمید ہے کہ میری روحانی اور جسمانی کمزوریوں سے درگز رفرماتے ہوئے اس اہم ذمہ داری کو کما حقہ ادا کرنے کی توفیق بخشے گا۔اور آپ سب خدام بھائیوں کے حق میں بھی میری عاجزانہ دعا یہی ہے کہ خدمت کے جس مقام پر بھی آپ فائز ہوں، محض خادم ہوں یا زعیم یا قائد یا منتظم یا ناظم یا مہتم اللہ تعالیٰ کی نصرتیں اور رحمتیں دائم آپ کے شامل حال رہیں اور بے ریاء خالصہ اللہ خدمت دین کی توفیق آپ کو نصیب ہو۔یادرکھیں کہ یہ مختلف عہدے تو محض انتظامی سہولتوں کی خاطر قائم کئے گئے ہیں ورنہ خدا تعالیٰ کے حضور وہی افضل اور اعلیٰ اور عزت سے یاد کئے جانے کے لائق ہے جو اپنی تمام طاقتیں اخلاص کی طشتری میں سجا کر اپنے رب کے حضور پیش کر دیتا ہے۔پھر خواہ اُسے اذنِ خدمت ملے یا نہ ملے وہ اپنے رب کی نگاہ میں حقیقی معنوں میں خادم کہلانے کا مستحق ٹھہرتا ہے۔غرض یہ کہ جہاں تک روحانی مقام اور قرب الہی کا تعلق ہے کوئی نہیں جانتا کہ صدر بہتر ہے یا ایک بے عہدہ خادم جو محض خدمت کے انتظار میں کھڑا ہے۔پس اپنے لئے بھی اور جملہ عہدیداران مجلس خدام الاحمدیہ کے لئے بھی میری یہ عاجزانہ بلکتی ہوئی دعا ہے کہ وہ ہم سب کو ان عہدوں“ کے( کہ جو دراصل خدمت ہی کے مختلف نام ہیں ) حقوق ادا کرنے کی توفیق بخشے اور اپنے فضل وکرم سے ایسے کام کرنے کی توفیق بخشے جو خود اُس کی نگاہ میں پسندیدہ ہوں۔آخر پر اپنے جملہ خدام بھائیوں کو اپنے آقا و مولا حضرت رسول اکرم علی کا یہ زندگی بخش پیغام دے کر اس پیغام کوختم کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتیں ہوں اس بے مثل رسول پر کہ مختصر ، سادہ اور عام فہم الفاظ میں حکمت کے خزانے لگا دیئے:۔