تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 600 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 600

تاریخ احمدیت۔جلد 23 600 سال 1966ء خدام الاحمدیہ کا کام نہ کبھی پہلے پالیسی وضع کرنا تھا نہ اب ہے نہ آئندہ کبھی ہوگا۔پس ظاہر ہے کہ کسی صدر کے بدلنے سے پالیسی کے بدلنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔پالیسی وہی ہوگی جو مجلس کے قیام کے دن سے چلی آرہی ہے اور آئندہ بھی مجھے یقین ہے کہ اسی طرح چلے گی۔یعنی کامل خلوص اور وفا اور جذ بہ طاعت کے ساتھ بانی مجلس خدام الاحمدیہ حضرت المصلح الموعود اور خلیفتہ اسیح کی بیان فرمودہ ہدایات پر عمل پیرا ہونے کی پوری کوشش کرنا اور اُس لائحہ عمل کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کوشاں رہنا جو قرآن ،سُنت اور حدیث نبوی کی روشنی میں خلفائے حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمارے لئے پہلے تیار فرما چکے ہیں یا آئندہ تیارفرمائیں۔ی وہ پالیسی ہے جس پر مجھ سے قبل صدران مجلس چلتے رہے اور اس میں نیک بختی اور سعادت جانی اور یہی وہ پالیسی ہے جس پر چلنے کی توفیق میں اپنے رب سے مانگتا رہوں گا۔اور آپ سے بھی استدعا ہے کہ آپ بھی میرے لئے اور اپنے لئے یہی دعا کرتے رہیں اور اسی نیک مقصد کے حصول کے لئے دل و جان سے کوشاں رہیں۔ایک فرق باوجود اس کے کہ اغراض و مقاصد کی تعیین اور حصول مقاصد کے ذرائع کی اصولی حد بندی فرمانا جیسا کہ ابھی عرض کر چکا ہوں خلفائے سلسلہ عالیہ احمدیہ کا کام ہے تا ہم جہاں تک کوششوں کی تفصیل کا تعلق ہے اس سے انکار نہیں کہ ہر وہ شخص جس پر کوئی ذمہ داری ڈالی جاتی ہے اپنی اپنی افتاد طبع ، زاویہ نگاہ اور فکری اور عملی طاقتوں کے لحاظ سے اپنے مخصوص رنگ میں اسے پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔پس مقصد اور حصول مقصد کی راہ معتین ہی کیوں نہ ہو ، کارکنان کے بدلنے سے طریق کار میں کچھ جز کی تبدیلیاں ضرور واقع ہو جاتی ہیں جن سے مفر نہیں اور یہیں سے میرے لئے اور اُن سب خدام بھائیوں کے لئے خوف کا مقام شروع ہوتا ہے جو مجلس خدام الاحمدیہ کے نظام میں کسی نہ کسی خدمت پر مامور ہوں گے۔پس اس پہلو سے بھی اپنے خدام بھائیوں سے دُعا کی درخواست کرتا ہوں کہ جس طرز عمل کو ہم احسن سمجھتے ہوئے اختیار کریں اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں بھی وہ احسن ٹھہرے اور ہم اُس خوش قسمت گروہ میں