تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 583
تاریخ احمدیت۔جلد 23 583 سال 1966ء حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کا ایک اہم مکتوب حضرت حافظ مرزا ناصر احمد خلیفہ مسیح الثالث کا انتخاب خدا تعالیٰ کی عظیم بشارات کے مطابق عمل میں آیا۔چنانچہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آپ کے بیٹے مرزا مبارک احمد کی وفات کے بعد ایک نافلہ ( پوتا) کی بشارت دی گئی تھی جسے الہامات میں بیٹی اور بمنزلہ مبارک احمد بھی کہا گیا تھا۔بعض قرائن کی روشنی میں یہ پیشگوئی حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کی ذات بابرکات میں پوری ہوتی نظر آ رہی تھی۔چنانچہ اس ضمن میں خلافت ثالثہ کے آغاز میں سیدہ نواب مبارکہ بیگم نے ایک اہم مکتوب محترم مولانا جلال الدین شمس کے نام تحریر فرمایا۔جسے اس مندرجہ بالا سونیئر میں شائع کیا گیا جو کہ درج ذیل ہے۔برادرم مکرم سلمک اللہ تعالیٰ السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ آپ کا خط ملا۔۔یہ درست ہے کہ حضرت اماں جان ناصر احد کو بچپن میں اکثر یحیی کہا کرتیں اور فرماتی تھیں کہ یہ میرا مبارک ہے۔بیٹی ہے جو مجھے بدلے میں مبارک کے ملا ہے۔مبارک احمد کی وفات کے بعد کے الہامات بھی شاہد ہیں۔ایک بار میرے سامنے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت اماں جان سے بڑے زور سے اور بہت یقین دلانے والے الفاظ میں فرمایا تھا کہ تم کو مبارک احمد کا بدلہ بہت جلد ملے گا۔بیٹے کی صورت میں یا نافلہ کی صورت میں۔مجھے مبارک احمد کی وفات کے تین روز بعد ہی خواب آیا کہ مبارک احمد تیز تیز قدموں سے آ رہا ہے اور دونوں ہاتھوں پر ایک بچہ اٹھائے ہوئے ہے اُس نے آکر میری گود میں وہ بچہ ڈال دیا اور وہ لڑکا ہے۔اور کہا لو آپا یہ میرا بدلہ ہے۔( یہ فقرہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ آپ نے فرمایا تھا ) میں نے جب یہ خواب صبح حضرت اقدس کو سنایا تو آپ بہت خوش ہوئے۔مجھے یاد ہے کہ آپ کا چہرہ مبارک مسرت سے چمک رہا تھا اور فرمایا تھا کہ بہت مبارک خواب ہے۔آپ کی بشارتوں اور آپکے کہنے کی وجہ تھی کہ ناصر سلمہ اللہ تعالیٰ کو اماں جان نے اپنا بیٹا بنالیا تھا۔اماں جان کے ہی ہاتھوں میں ان کی پرورش ہوئی۔شادی بیاہ بھی انہوں نے کیا۔اور کوٹھی بھی بنا کر دی۔(النصرة)۔تمام پاس رہنے والے جو زندہ ہونگے اب بھی شاہد ہوں گے کہ حضرت اماں جان ناصر کومبارک سمجھ کر اپنا بیٹا ظاہر کرتی تھیں۔اور کہا کرتی تھیں یہ تو میرا مبارک ہے۔عائشہ والدہ نذیر احمد جس کو حضرت اماں جان نے پرورش کیا اور آخر تک اُن کی خدمت میں رہیں یہی ذکر اکثر کیا کرتی ہے کہ اماں جان تو ناصر کو اپنا مبارک ہی کہا کرتی