تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 582
تاریخ احمدیت۔جلد 23 582 سال 1966ء یہ نیا بلاک موجودہ عمارت ۲۰۱۲ء میں دفتر نظارت علیاء کے بعد شرقی جانب موجودہ نظارت امور عامہ کے دفاتر تک ہے۔مدینہ یونیورسٹی کے ایک طالبعلم کے تاثرات اس سال مدینہ یونیورسٹی کے ایک پاکستانی طالبعلم ایک وفد کے رکن کی حیثیت سے نائیجیریا کے ایک سیمینار میں شامل ہوئے۔واپسی پر انہوں نے نائیجیریا میں احمدیت کے اثر ونفوذ کے بارے میں لکھا:۔’دینہ میں ایک پاکستانی ساتھی نے مشرقی پاکستان کے ایک قادیانی عالم کی یہ بات مجھے بتائی کہ اُن کے خیال میں نائیجیر یا عنقریب ایک قادیانی ریاست بن جائے گا۔تمام نا یجیر یا تو نہیں کیونکہ شمالی حصہ میں مساحت کے لحاظ سے نائیجیریا کا سب سے بڑا حصہ ہے۔خالص مسلمان علاقہ ہے۔ہاں مغربی و مشرقی حصوں میں جہاں بھی عیسائیوں کی بہ نسبت مسلمانوں کی واضح اکثریت ہے۔تعلیم یافتہ طبقہ میں احمدیت کے وسیع اثرات کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔ہمارے علماء اور تبلیغی مشن کہاں ہیں؟ اگر پاکستان اسی تحریک کا فی الوقت منبع بن سکتا ہے۔تو اسی ملک سے ہمارے علماء صحیح اسلامی دعوت لیکر گم گشتہ راہ قافلوں کے لئے ہدایت کا مینار نہیں بن سکتے ! خدا را آپس کے اختلافات کو چھوڑیے کہ اس سے آپ کے مراتب ومناصب تو ضرور مستحکم ہو سکتے ہیں۔لیکن اسلام کا شیرازہ اور بھرتا جاتا ہے۔166 یغام امام مجلس خدام الاحمدیہ کراچی کے نام حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے مجلس خدام الاحمدیہ کراچی کے نام حسب ذیل پیغام دیا جومجلس کےسوونیئر ۱۹۶۶ء میں اشاعت پذیر ہوا:۔خدام الاحمدیہ یہ نام حضرت مصلح موعود ہی کا رکھا ہوا ہے اور خود اس نام میں ایک زبر دست پیغام موجود ہے۔میری خواہش ہے اور میں دعا کرتا ہوں کہ خدام الاحمدیہ اللہ تعالیٰ کے وفادار خادم اور فرماں بردار بندے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی پیروی کرنے والے ہوں۔مرزا ناصر احمد خلیفة اصبح الثالث