تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 584
تاریخ احمدیت۔جلد23 584 سال 1966ء تھیں کہ یہ تو میرا مبارک مجھے ملا ہے۔کئی سال ہوئے میں بہت بیمار ہوئی تو میں نے ایک کاپی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض باتیں جو یا تھیں لکھی تھیں۔اُن میں یہ روایت اور اپنا خواب میں نے لکھا تھا وہ کا پی میرے پاس رکھی ہوئی ہے۔لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کا نواں سالانہ اجتماع والسلام مبارکہ 134 خدا تعالیٰ کے فضل سے لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کا نواں سالانہ اجتماع مورخه ۲۱ /اکتوبر ۱۹۶۶ء کو شروع ہوا اور تین دن جاری رہنے کے بعد بخیر وخوبی اختتام پذیر ہوا۔اجتماع کے پروگرام میں حضرت خلیفہ امسیح الثالث کے خطاب، حضرت سیدہ ام متین صاحبہ اور حضرت سیدہ مہر آپا صاحبہ کی تقاریر ، درس قرآن کریم اور درس حدیث کے علاوہ متعدد دینی موضوعات پر تقریری مقابلہ جات قابل ذکر ہیں۔گذشتہ سال ملکی حالات خراب ہونے کی وجہ سے اجتماع نہ ہو سکا تھا اس لئے امسال باہر کی لجنات سے ایک بڑی تعداد میں نمائندگان اور ممبرات نے شرکت کی۔پاکستان اور بیرون پاکستان کی ۷۶ لجنات کی ۴۱۰ نمائندگان اور ۴۰۰۰ ممبرات نے اجتماع میں شرکت کی۔قادیان سے محترمہ امتہ القدوس صاحبہ جنرل صدر لجنات بھارت کے علاوہ نیروبی، سیرالیون اور لندن کی لجنات کی نمائندگان بھی تشریف لائی ہوئی تھیں۔جبکہ گذشتہ اجتماع میں ۵۲ لجنات کی تقریباً ۳۹۹ نمائندگان نے شرکت کی تھی۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اجتماع کے دوسرے دن مستورات سے خطاب فرمایا۔آپ نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اگر عورت چاہے تو اس طرح زندگی گزار سکتی ہے کہ اس کے پاؤں ہمیشہ جنت کی زمین پر رہیں۔اس میں جہاں ایک طرف تربیت اولاد کے متعلق اشارہ ہے وہاں یہ بھی بتایا کہ اگر وہ اس طرح سے رہے گی اور اولاد کی صحیح تربیت کرے گی تو اس کی زندگی پر سکون اور امن والی ہوگی۔اس کے علاوہ حضور نے مستورات کو توجہ دلائی کہ وہ بچیوں کو بچپن ہی سے مالی قربانی کرنے کے لئے تیار کریں۔اپنے گھروں کا ماحول ایسا پیدا کریں کہ ان کی گود کے پلے ہوئے بچے بڑے ہو کر