تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 547
تاریخ احمدیت۔جلد 23 547 سال 1966ء حضور نے کلاس میں شامل طلبہ کو نصیحت فرمائی کہ وہ یہ ایام اس طرح گزارنے کی کوشش کریں کہ ان کا ایک لمحہ بھی ضائع نہ ہو۔حضور نے فرمایا کہ قرآن مجید کا زیادہ سے زیادہ علم حاصل کرنے کی کوشش کریں اور حصول علم کے ساتھ ساتھ اس بات کے لیے بھی ساعی ہوں کہ جو علم آپ نے حاصل کیا ہے۔اس سے آپ خود اور آپ سے تعلق رکھنے والے فائدہ اُٹھائیں۔کسی نیک بات کا سُن لینا اور پھر اسے اپنی زندگیوں میں اثر انداز نہ ہونے دینا محض فضول ہے۔کیونکہ عمل کے بغیر محض علم قطعا سودمند ثابت نہیں ہوسکتا۔پس اس نیت سے قرآنی علوم سیکھیں کہ آپ کو بھی اور آپ کے ذریعہ دوسروں کو بھی زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچتا رہے۔حضور نے خدام الاحمدیہ کو ہدایت فرمائی کہ وہ اس امر کا خاص اہتمام کریں کہ ہر خادم کو وفات مسیح، مقام نبوت اور جملہ دیگر مسائل کے متعلق کم از کم ایک بنیادی دلیل پوری جامعیت کے ساتھ از بریاد ہو۔اگر ہر مسئلہ سے متعلق ایک ایک دلیل ہر خادم کو جملہ تفاصیل کے ساتھ اس طرح یاد ہو جائے کہ وہ اس پر پوری طرح حاوی ہو۔تو یہ امر جہاں ان کے لیے بلحاظ کیفیت از دیاد علم کا موجب ہوگا۔وہاں انہیں اصلاح وارشاد کا فریضہ خوش اسلوبی سے ادا کرنے کے قابل بنادے گا۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک صدی قبل کی پیشگوئی کا پہلا شاندار ظہور ۱۸۶۸ء یا ۱۸۶۹ء میں جبکہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ مسیح موعود علیہ السلام کا کوئی دعویٰ نہیں تھا اور آپ بالکل گوشئہ گمنامی میں تھے خداوند کریم نے آپ کو الہاما خبر دی کہ۔وو وہ تجھے بہت برکت دے گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گئے اس عظیم الشان پیشگوئی کا اولین ظہور خلافت ثالثہ کے پہلے سال میں ہوا۔جس کی تفصیل سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے مبارک الفاظ میں درج ذیل کی جاتی ہے۔" حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ۱۸۶۸ء میں یہ اعلان فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے الہاماً بتایا ہے کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔اس وقت آپ کو بھی کوئی نہ جانتا تھا، قادیان کو بھی کوئی نہ جانتا تھا۔جماعت احمدیہ کوبھی کوئی نہ جانتا تھا بلکہ کہا جاسکتا ہے کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی نہ جانتے تھے۔کیونکہ اس وقت اللہ تعالیٰ کے حکم سے جماعت کا قیام نہیں کیا گیا تھا اور