تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 548
تاریخ احمدیت۔جلد 23 548 سال 1966ء بیعت بھی شروع نہ ہوئی تھی۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ پیشگوئی کی۔اور قریباً سو سال تک مخالف کو موقع دیا کہ جتنا چاہواستہزا کر لو۔مذاق کر لو ٹھٹھا کرلو، طعنے دےلو۔یہ کلام ہمارا ( عزیز خدا کا کلام ہے جو ایک دن پورا ہو کر رہے گا۔اس سال اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے وہ سامان پیدا کر دئے۔( دو کم سوسال کے بعد ) جب اس عرصہ میں ایک نیا ملک بنایا گیا۔پھرالہی تدبیر کے ماتحت اس ملک کو آزادی دلائی گئی پھر الہی منشاء کے مطابق جب اس ملک کی اپنی حکومت بنی تو اس کا سر براہ اور اس کا Acting گورنر جنرل اس شخص کو مقرر کیا گیا جو تقرر کے دن سے پہلے جماعت احمد یہ گیمبیا کا پریذیڈنٹ تھا۔اس طرح جماعت احمدیہ کے پریذیڈنٹ کو گورنر جنرل بنا دیا۔پھر اِن کو ہمارے مبلغ نے توجہ دلائی کہ اللہ تعالیٰ کی ایک بشارت ہے کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے تم خوش نصیب انسان ہو کہ دنیا کی تاریخ میں تمہیں پہلی دفعہ یہ موقع مل رہا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کپڑوں سے تم برکت حاصل کر سکو گر یہ کوئی معمولی چیز نہیں۔اس لیے قبل اس کے کہ تم اس کے متعلق خلیفہ وقت کو اپنی درخواست بھجواؤ چالیس دن تک چلہ کرو۔یعنی خاص طور پر دعائیں کرو۔اس قسم کا چلہ نہیں جو صوفیاء اور فقراء کیا کرتے ہیں۔چالیس دن تک خاص طور پر تہجد میں دعا کرو کہ خدا تعالیٰ تمہیں اس بات کا اہل بنائے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کپڑوں میں سے ایک ٹکڑا تمہیں ملے۔انہوں نے دعا شروع کی اور پھر مجھے خط لکھا کہ میں دعاؤں میں مشغول ہوں اور اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑ گڑا رہا ہوں کہ میں ایک بڑی بھاری ذمہ داری لے رہا ہوں صرف عزت حاصل نہیں کر رہا۔صرف تبرک حاصل نہیں کر رہا بلکہ بڑی بھاری ذمہ داری بھی لے رہا ہوں۔ایک شخص جو ہزار ہا میل دور رہتا ہے نہ کبھی ربوہ آیا۔نہ ہی تاریخ احمدیت سے پوری طرح واقف۔اس کے دل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تبرک کی اہمیت جب تک پوری طرح بٹھا نہ دی جاتی میرے نزدیک انہیں تبرک بھجوانا درست نہیں تھا۔اس لیے میں نے انہیں ایک لمبا سا خط لکھا اور انہیں یہی نکتہ سمجھایا کہ تم