تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 543 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 543

تاریخ احمدیت۔جلد 23 543 سال 1966ء کا نام عطا کیا گیا اور رسول کا مقام عطا ہوا۔اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے اپنی کتاب ”ایک غلطی کا ازالہ میں بڑی وضاحت کے ساتھ تشریح فرمائی ہے اور فرمایا ہے کہ جو لوگ میری طرف نبوت کو اس معنی میں منسوب کرتے ہیں کہ گویا میں قرآن کریم کو یا اس کے بعض احکام کو منسوخ کرنے والا ہوں۔یا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل میں کھڑا ہو کر نبوت کا دعوی کرتا ہوں وہ مجھ پر جھوٹا الزام لگاتے ہیں۔اس طرح وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں ، یا جو یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے الہامات میں مجھے نبی اور رسول کا نام نہیں دیا گیا وہ بھی غلطی خوردہ ہیں۔میں کوئی نئی شریعت لے کر نہیں آیا۔میں قرآن کے کسی حکم کو منسوخ نہیں کرتا لیکن امت محمدیہ میں سب سے زیادہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فیض حاصل چونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں نے کیا۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے مقام نبوت اور مقام رسالت مجھے عطا کیا اور مجھے وہ طاقتیں اور قوتیں اور استعداد میں اور علوم اور الہی نشانات عطا کئے جس کے نتیجہ میں میں اپنے اس مقصد میں اور اس مشن میں کامیاب ہوں گا کہ پھر سے اسلام کو تمام ادیان باطلہ پر غالب کروں۔ہمارے دوستوں کو چاہیئے کہ وہ اس کتاب کو ہمیشہ زیر مطالعہ رکھیں تا کہ اُن کو اپنی ذمہ داری کا احساس بھی ہمیشہ رہے۔اللہ تعالیٰ نے آسمان پر یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ وہ اسلام کو تمام دنیا میں غالب کرے گا۔یہ خدا کا وعدہ ہے جو ضرور پورا ہوگا۔لیکن اس نے ہم پر فضل فرماتے ہوئے ہم سے یہ چاہا ہے اور امید رکھی ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے اس منصو بہ اور سکیم میں خود بھی کوشش کرنے والے ہوں اور ہرفتم کی قربانیاں دینے والے ہوں اور خدا اور اس کے رسول کی خاطر دنیا کی تکالیف برداشت کرنے والے ہوں اور ایثار کا نمونہ پیش کرنے والے ہوں اور اسلام کو اپنی زندگیوں میں ظاہر کرنے والے ہوں، قرآن کریم سے پیار کرنے والے ہوں، تو حید پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہوں ، قرآن کریم کے ساتھ دل سے محبت کرنے والے ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت اس طرح اپنے دلوں میں قائم کرنے والے ہوں کہ اُس نور کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ