تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 542 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 542

تاریخ احمدیت۔جلد 23 542 سال 1966ء سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو پہچاننے کی توفیق عطا کی ہے۔السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک انوکھے مقام نبوت کا دعوی کیا ہے۔آپ سے پہلے اس قسم کا کوئی نبی پیدا نہیں ہوا اس لیے جماعت احمدیہ میں سے بھی بعض غلط فہمی کا شکار ہو گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کوئی نئی شریعت لے کر مبعوث نہیں ہوئے۔قرآن کریم یا اس کے کسی حکم کو آپ نے منسوخ نہیں کیا بلکہ قرآن کریم۔تمام احکام قرآن کو دنیا میں قائم کرنا آپ کی بعثت کی غرض تھی۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہاماً فرمایا "يحيى الدين ويقيم الشريعة یعنی بعثت کی غرض ہی احیائے دین اور قیام شریعت ہے۔آپ نے جو کچھ بھی حاصل کیا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے حاصل کیا۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے الہام بتایا ” آسمان سے دودھ اترا ہے، محفوظ رکھو۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ بنی نوع انسان کو ایک خالص دودھ عطا کیا گیا تھا۔یہ دودھ جو آسمان پر سے آپ کے لیے نازل ہوا تھا اس میں کسی قسم کے مضر صحت کیڑے نہیں پائے جاتے تھے لیکن بعد میں مسلمانوں میں سے بعض لوگ بد قسمتی کی وجہ سے قرآن کریم کو چھوڑ کر رسم و رواج یا اپنی عقل کے پھندے میں پھنس گئے اور انہوں نے اپنی طرف سے بہت کچھ شریعت اسلامیہ میں ملانا شروع کر دیا۔اس کے نتیجہ میں وہ دودھ۔خالص دودھ۔جو آسمان سے نازل ہوا تھا اُس میں ملاوٹ پڑ جانے کی وجہ سے۔بالکل وہ دودھ خراب ہو گیا اور روحانی صحت پر اُس کا بداثر پڑنا شروع ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے پھر اُسی دودھ کو ایک خالص شکل میں بنی نوع انسان کے سامنے پیش کیا ہے۔اور چونکہ آپ نے فنافی اللہ اور فنافی الرسول کا وہ مقام حاصل کیا جو امت محمدیہ میں سے کسی بزرگ نے آپ سے پہلے حاصل نہ کیا تھا اور جسے آئندہ بھی اُمت محمدیہ کا کوئی بزرگ حاصل نہ کر سکے گا اس لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو نبی