تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 544
تاریخ احمدیت۔جلد 23 ہمارے ماحول کو بھی منور کر دے۔544 سال 1966ء پس اے میرے عزیز بھائیو! آپ جو دُور دراز علاقوں ، جزائرنجی میں رہنے والے ہیں! آپ اپنی ذمہ داریوں کو کبھی نہ بھولیں۔باہم پیار اور محبت سے رہیں اور اس مقصد کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھیں جس مقصد کے لیے جماعت احمدیہ کا قیام ہوا ہے۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ مکرم رستم خان صاحب آف مردان کی شہادت 95 ۱۱ فروری ۱۹۶۶ء کو ایک نہایت تکلیف دہ واقعہ پیش آیا کہ ایک نہایت مخلص اور باوفا احمدی مکرم رستم خان صاحب آف مردان کو شہید کر دیا گیا۔آپ خلافت ثالثہ کے پہلے شہید تھے۔مکرم رستم خان صاحب پشاور کے قریب ایک گاؤں جلوزئی کے رہنے والے تھے۔خود احمدی ہوئے تھے اور اپنے گاؤں بلکہ آس پاس کے کئی گاؤں میں اکیلے احمدی تھے۔احمدی ہونے پر سارا گاؤں ان کا مخالف ہو گیا اور انہیں گھر سے نکال دیا گیا، جائیداد سے عاق کیا گیا۔ان پر مختلف طریقوں سے دباؤ ڈالا گیا کہ قادیانیت سے توبہ کر لو ان کے بچوں میں پانچ بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔چا وغیرہ چاہتے تھے کہ ان کی نسل کو ہی ختم کر دیا جائے۔بیٹیوں کو گاؤں لے جا کر بیچنے کی سازش کی گئی۔بیٹے کرنل عبد الحمید حال راولپنڈی کو بارہا جان سے مارنے کی کوشش کی گئی۔شہید اپنی سروس کے سلسلہ میں زیادہ تر باہر رہتے تھے۔گاؤں کی مسجد کے مولوی نے فتوی دیا کہ جو کوئی رستم خان کی نسل کو ختم کرے گا وہ جنتی ہو گا۔ان کی بیگم کو ایک دو دفعہ کسی مرگ پر گاؤں جانا ہوا تو کھانے پینے کے برتن الگ ہوتے تھے۔سب اچھوتوں والا سلوک کرتے تھے۔کھانے میں زہر ملانے کی بھی سازش کی گئی جو کہ ناکام ہوئی۔۹ فروری ۱۹۶۶ء کو شہید کے والد کی وفات ہوگئی تو ان کی لاش لے کر بچے گاؤں گئے۔گاؤں پہنچتے ہی تمام گاؤں میں مولوی نے اعلان کیا کہ ”لوگو! خوش ہو جاؤ ، آج رستم خان قادیانی آیا ہے۔اس کو قتل کر دو اور اس کی اولا دکو علاقہ غیر میں بیچ دو یا پھر گاؤں میں بیاہ دو۔اس کا ایک بیٹا ہے اس کو مارڈالو اور اب جو بھی ثواب کمانا چاہتا ہے، بہادر بنے اور سامنے آئے کیونکہ جنت کمانے کا ذریعہ سامنے آیا ہے۔