تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 541 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 541

تاریخ احمدیت۔جلد 23 541 سال 1966ء ان تعلیمی انتظامات سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ ان کے دو فرزندوں کو جماعت احمدیہ کے زیر نگرانی تعلیم دلائی جائے۔مگر افسوس کہ بعد میں حالات نے انہیں لکھنو سے کراچی چلے جانے پر مجبور کر دیا اور اس تجویز پر عمل نہ ہوسکا۔۱۹۴۷ء کے پُر آشوب زمانہ میں قادیان کے اندر درویشوں کے قیام سے بھی وہ بہت متاثر تھے وہ جب قادیان تشریف لائے تو میں ان کے استقبال کے لیے امرتسر گیا ہوا تھا۔امرتسر سے ٹیکسی میں ہم قادیان آرہے تھے کہ علامہ نے یہ سوال کیا کہ تقسیم ملک کے وقت جبکہ واہگہ سے انبالہ اور سہارنپور تک کا علاقہ مسلمانوں سے خالی ہو گیا تھا تو قادیان میں تھوڑی سی تعداد میں درویشوں کا ٹھہر جانا کیونکر ممکن ہوا؟ یہ سوال واقعی بڑا اہم تھا مگر مجھے اپنی کم علمی کا اعتراف کر لینا چاہیئے کہ میں اس سوال کا جواب نہ دے سکا کیونکہ میں اس کا جواب نہیں جانتا تھا اور آج بھی نہیں جانتا چنا نچہ میں نے یہی کہا کہ یہ راز تو آج تک ہمیں خود معلوم نہیں کہ یہ کیونکر ممکن ہوا اور خدائی تقدیروں کے رازوں کو کون جان سکتا ہے۔علامہ نے فرمایا یہ درست ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ وفاداری کے سخت ترین کہ امتحان میں کامیاب رہے۔حضرت مرزا وسیم احمد صاحب اور نا چیز راقم کے ساتھ علامہ کی خط و کتابت آخر تک جاری رہی اور دوستانہ مراسم قائم رہے۔چنانچہ علامہ نے نگار کا جو نیاز نمبر دو فخیم جلدوں میں نکالا تھا۔اس میں اپنے خاص دوستوں کی فہرست میں صاحبزادہ صاحب موصوف اور خاکسار کے نام بھی دئے تھے۔بہر حال دنیائے علم وادب کی ایک حیرت انگیز اور عظیم شخصیت اس جہانِ فانی سے اُٹھ گئی مگر اپنے پیچھے منطق و استدلال کے بے شمار نقوش چھوڑ گئی۔حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا امام ہمام کا پیغام جماعت احمد یہ منفی کے نام 66 سید نا حضرت خلیفہ مسیح الثالث نے ۳۰ مئی ۱۹۲۶ء کو جماعت احمد یہ بنی کے نام حسب ذیل پیغام دیا جسے ایک فی جیئن احمدی عبد القدوس صاحب نے بذریعہ ٹیپ ریکارڈر محفوظ کر کے بھی کی مخلص جماعت تک پہنچایا۔جزائری میں رہنے والی وہ سعید روحو! جنہیں اللہ تعالی نے محض اپنے فضل