تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 540 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 540

تاریخ احمدیت۔جلد 23 540 سال 1966ء صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب سلمہ کے ارشاد کی تعمیل میں لکھنو میں ان سے ملا۔مرحوم نے وسط ۱۹۵۹ء میں اپنے مؤقر رسالہ "نگار" میں احمدیت کے حق میں ایک زور دار نوٹ لکھا تھا اور اسی سلسلہ میں مجھے ان سے گفتگو بھی کرنا تھی اور سلسلہ احمدیہ کا لٹریچر بھی پہنچانا تھا۔سلسلہ احمدیہ کا حق و صداقت پر مبنی لٹریچر پڑھنے کے بعد علامہ نیاز کے خیالات اتنے زیادہ متاثر ہوئے تھے کہ انہوں نے نگار کی متعدد اشاعتوں میں احمدیت کے حق میں نہایت مدلل اور زوردار نوٹ لکھے جس کے لئے مرحوم کو بے شمار اعتراضات کی بوچھاڑ کا مقابلہ بھی کرنا پڑا۔مگر نیاز جیسا نا قابل شکست انسان بھلا ان اعتراضات کی کیا حقیقت سمجھتا تھا۔جواب در جواب کا سلسلہ جاری رہا اور نیاز اپنے پر شوکت قلم سے احمدیت کے حق میں وہ کچھ لکھ گیا جو آج تک کسی غیر احمدی عالم نے نہیں لکھا تھا۔گو کہ احمدیت کی حقیقت اور فعالیت کا اعتراف دل سے تو بے شمار علماء کو ہے مگر اعتراف کے اظہار کے لیے جس جرات رندانہ کی ضرورت ہوا کرتی ہے وہ تو صرف نیاز ہی کا حصہ تھا۔صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب اور خاکسار راقم کیساتھ علامہ نیاز کی با قاعدہ خط وکتابت آخر تک جاری رہی اور ہمارے پیارے آقا سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی شہرہ آفاق تصنیف تفسیر کبیر کے مطالعہ کے بعد تو علامہ نیاز کے اندر اتنا تغیر واقع ہوا تھا کہ انہوں نے صاحبزادہ صاحب موصوف کے نام اپنے خطوط میں نہایت نیاز مندانہ طور پر اس کا اظہار کیا اور اس تصنیف کو دنیا کا عظیم ترین علمی کارنامہ قرار دیتے ہوئے یہاں تک لکھا کہ اس تفسیر کے مطالعہ کے بعد تو میرے دل میں یہ خواہش ہوتی ہے کہ کاش میری زندگی آج سے شروع ہوئی ہوتی۔حضرت صاحبزادہ صاحب کے ساتھ علامہ کی خط و کتابت کا ایک حصہ جسے خاکسار نے مرتب کیا تھا نظارت دعوۃ و تبلیغ کی طرف سے ۱۹۵۹ء میں سائیکلو سٹائل مشین پر چھاپ کر بعض جماعتوں کو بھجوایا بھی گیا تھا۔لیکن کچھ حصہ ایسا بھی ہے جو ابھی منظر عام پر نہیں لایا جاسکا۔جولائی ۱۹۶۰ء میں علامہ نیاز صاحبزادہ صاحب موصوف کی دعوت پر قادیان بھی تشریف لائے تھے اور صدرانجمن احمدیہ کے ادارہ جات اور تنظیم کو دیکھ کر بے حد متاثر ہوئے تھے اور جب انہوں نے تعلیم الاسلام کالج اور سکولوں اور جامعہ احمدیہ کی عمارات دیکھیں اور ربوہ کے تعلیمی اداروں اور ممالک بیرون کے مشنوں کے حالات سنے تو انہوں نے فرمایا کہ ایک چھوٹی سی جماعت کا ستر سال کی قلیل عمر میں اتنا بڑا کام کرنا واقعی محیر العقول ہے۔اور خدائی تائید کے بغیر یہ کارنامہ انجام نہیں دیا جاسکتا۔مرحوم