تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 530 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 530

تاریخ احمدیت۔جلد 23 530 سال 1966ء دن کا تھا۔مولانا ابوالعطاء صاحب نے یکم مئی کو اس وفد کی ملاقات حضور سے کروائی۔حضور نے وفد کو جو ہدایات ارشاد فرمائیں ان کا خلاصہ یہ تھا کہ تم نے ضلع سرگودھا کی ایک بڑی جماعت تخت ہزارہ میں جانا ہے یہ جماعت زمیندارہ ہے اور ان دنوں گندم کی کٹائی اور گہائی کا موسم ہے۔زمینداران دنوں فارغ نہیں ہونگے اس لئے یہ امید نہیں رکھنی کہ لوگ تمہارے پاس آئیں بلکہ تم نے لوگوں کے پاس ان کے کھیتوں میں اور کھلیانوں میں جانا ہے۔مکرم ابراہیم صاحب کو اشارہ کر کے حضور نے فرمایا کہ تم زمینداره خاندان سے تعلق رکھتے ہو اس لئے تم ان دنوں زمینداروں کی مصروفیت کو خوب سمجھتے ہو۔تربیت اور دعوت الی اللہ کا کام ان لوگوں کے کام کا حرج کئے بغیر سرانجام دینا ہے۔زمیندار جس وقت گندم کاٹتے کاٹتے ذرا ستانے اور حقہ کے لئے درختوں کے نیچے بیٹھتے ہیں اس وقت سے فائدہ اٹھانا ہے۔تخت ہزارہ کی جماعت تربیت کی بڑی محتاج ہے اس لئے تمہیں خاصی محنت سے کام کرنا ہوگا۔صبح اور عشاء کی باجماعت نماز میں حاضری کے لئے خاص جد و جہد کرنا ہو گی۔مولانا ابو العطاء صاحب نے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ ان میں سے کسی کو امیر مقرر فرما دیں تو حضور نے مکرم محمد ابراہیم صاحب کو امیر مقرر فرمایا کہ اس وفد کا امیرابراہیم ہوگا۔پھر حضور نے دعاؤں کے ساتھ اس وفد کو رخصت فرمایا۔وفد یکم مئی کو ربوہ سے روانہ ہو کر اسی دن تخت ہزارہ پہنچا۔دوستوں نے اڈہ پر استقبال کیا۔جماعت نے اصرار کیا کہ کھانا جماعت کی طرف سے قبول کیا جائے۔وفد نے بتایا کہ ہمیں حکم یہ ہے کہ اپنے خرچ پر کھانے کا انتظام کیا جائے مگر جماعت جماعتی مہمان نوازی پر اصرار کر رہی تھی۔آخر انہوں نے کہا کہ ہم ابھی حضور کی خدمت میں آدمی بھجوا کر اس کی اجازت حاصل کر لیتے ہیں۔آخر ان کا اصرار دیکھ کر وفد نے ان کی مہمانی قبول کر لی کیونکہ مولانا ابوالعطاء صاحب نے جہاں وفد کو اپنے کھانے کی ہدایت کی تھی وہاں یہ بھی فرمایا تھا کہ اگر جماعت نے زیادہ اصرار کیا تو ان کی مہمانی قبول کر لی جائے۔ان پندرہ دن کی کارکردگی مکرم محمد ابراہیم صاحب نے اپنی ڈائری میں درج کی ہے جو نہایت ایمان افروز اور تربیتی لحاظ سے مفید ہے اس کا ایک حصہ احباب جماعت کے لئے زیب قرطاس ہے۔ہر دو احباب نے حسب ہدایت وقف عارضی اپنے خرچ پر کی تھی۔وفد نے پہلے تین دن کی رپورٹ حضور انور کی خدمت میں بھجوا دی تھی پھر اس کے بعد مکرم محمد ابراہیم صاحب اپنی ڈائری میں تحریر کرتے ہیں کہ :