تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 529
تاریخ احمدیت۔جلد 23 529 سال 1966ء پس یہ قابل غور بات ہے کہ کیوں اللہ تعالیٰ نے احمدیوں کو وہاں اکٹھا کر دیا۔اگر ہم یہ سوچیں تو ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ خدائے واحد و یگانہ آپ سے یہ چاہتا ہے کہ آپ تثلیث کے اس گڑھ میں اس کی توحید کو قائم کرنے والے ہوں اور اس کی عظمت ، جلال اور کبریائی کے نعرے لگانے والے ہوں۔یوں تو اللہ اکبر وہاں آپ لاؤڈ سپیکر پر بلند آواز سے نہیں کہہ سکتے لیکن جس جس آدمی کو آپ ملیں اس کو تو آپ اپنی زبان سے اور اپنے عمل سے بھی اس طرف متوجہ کر سکتے ہیں کہ حقیقتاً ہمارا رب بڑی عظمت والا اور بڑے جلال والا ہے۔اگر آپ خدا تعالیٰ کی توحید کو اس ملک میں قائم کرنے کی کوشش کریں تو اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی آپ کو اپنی رحمتوں سے نوازتا رہے گا اور آخرت میں اور آپ کے اموال اور نفوس میں بہت برکت ڈالے گا۔خدا کرے کہ آپ الہی برکات کو جذب کرنے والے بنیں۔آمین۔“ حضرت خلیفہ المسیح الثالث کا سفر مخلہ 86 سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث یکم مئی ۱۹۶۶ء کو پانچ ایام کے لئے مخلہ تشریف لے گئے۔اس دوران حضور نے محترم مولانا جلال الدین صاحب شمس کو امیر مقامی مقررفرمایا۔وقف عارضی کا پہلا وفد حضرت خلیفتہ امیج الثالث کی ہدایت پر وقف عارضی کا پہلا وفد یکم مئی ۱۹۶۶ء کو تخت ہزارہ (ضلع سرگودھا) میں بھجوایا گیا۔حضرت خلیفہ اُسیح الثالث نے ۱۸ مارچ ۱۹۶۶ء کے خطبہ جمعہ میں وقف عارضی کی بابرکت تحریک کا اعلان فرمایا تھا۔حضور نے حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کو تحریک کا انچارج مقررفرمایا۔اس تحریک کے تحت وقف عارضی کا پہلا وفد جو تشکیل پایا وہ دوافراد پر مشتمل تھا۔مکرم محمد ابراہیم ایم اے ( دفتر انصار اللہ مرکزیہ ) ۲۔مکرم قریشی فضل حق صاحب دکان دار گولبازار بوه حضور کے ارشاد کی تعمیل میں اس پہلے وفد کا عرصہ وقف یکم مئی ۱۹۶۶ء تا پندرہ مئی ۱۹۶۶ء پندرہ