تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 511
تاریخ احمدیت۔جلد 23 511 سال 1966ء بہت دُکھ ہوا اور میں نے کہا باتیں تو آپ سے میں بعد میں کروں گا۔پہلے آپ کے لئے دوائی بنالاؤں۔میں نے اُن کو ایک ڈوز کریٹی گس کی لا کر دی اور اپنے سامنے کھلائی۔پھر اُن سے سارا قصہ سُنا ساتھ ہی اُن کی نبض دیکھی تو بڑا لو بلڈ پریشر (Low Blood Pressure) تھا۔میں نے انہیں کنکانڈی کی دواؤں میں سے نمبر ۱۳ اور نمبر ۲۴ چند پڑیاں دیں اور کہا انہیں استعمال کر کے دیکھو شاید بیماری میں کوئی فرق پڑ جائے۔ساتھ ہی میں دُعا کرنے لگ گیا۔اگلے دن صبح ہی وہ میرے پاس آئے اور کہا میری یہ حالت تھی کہ قریباً ہر تین گھنٹہ میں مجھے ایک دفعہ دورہ پڑ جاتا تھا۔لیکن کل سے مجھے کوئی دورہ نہیں پڑا۔میں نے کہا اچھی بات ہے اب آپ دوشیشیاں لے آئیں میں ان دوشیشیوں میں آپ کو دوا ڈال دوں گا۔لیکن انہوں نے غفلت کی اور عصر کی نماز تک شیشیاں لے کر نہ آئے۔اس طرح دوائی کے استعمال میں ناغہ ہو گیا اور عصر کی نماز کے دوران وہ پھر بیہوش ہو گئے۔انہیں دیکھ کر سارے لوگ پریشان ہو گئے۔جب ہوش میں آئے تو میں نے انہیں پھر وہی دو دوائیں دیں۔اس کے کچھ دن بعد جب وہ مجھے ملے تو انہوں نے بتایا کہ اس دن سے مجھے دورہ نہیں پڑا۔“ تیسری مثال چند دن ہوئے اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں ایک معجزہ دکھایا ہے۔ہمارے مقامی اصلاح وارشاد کے ایک مربی ہیں۔مولوی عبدالکریم صاحب کا ٹھگر بھی۔انہیں سر درد کا دورہ شروع ہوا اور وہ دن بدن بڑھتا چلا گیا۔یہاں تک کہ ان کی نظر اور شنوائی پر بھی اثر پڑنے لگا۔وہ اس درد کی وجہ سے ہر وقت تڑپتے رہتے تھے۔یہاں فضل عمر ہسپتال لائے گئے تو ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب نے انہیں دیکھا اور کہا کہ مجھے یہ بڑی خطر ناک بیماری معلوم ہوتی ہے۔انہیں لا ہور لے جاؤ۔میں نے انچارج صاحب مقامی اصلاح وارشاد سے کہا کہ ان کا بہترین علاج ہونا چاہیئے۔روپیہ کی فکر نہ کرو۔چنانچہ وہ انہیں لاہور لے گئے۔وہاں ایک ملٹری کے ڈاکٹر ہیں ڈاکٹر قاضی۔وہ بڑے ماہر برین سرجن ہیں۔اور چوٹی کے ڈاکٹر ہیں۔اسی طرح ایک اور