تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 512 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 512

تاریخ احمدیت۔جلد 23 512 سال 1966ء مشہور ڈاکٹر ہیں۔ان دونوں ڈاکٹروں نے مولوی صاحب کو دیکھا اور کہنے لگے۔ان کے دماغ میں ٹیومر (رسولی) ہے۔ان کا آپریشن ہونا چاہئے کیونکہ اس ٹیومر کا دماغ پر اثر پڑ رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی اُن کی شنوائی اور بینائی اور دوسرے حواس پر بھی اثر ہے۔میں اُن کے علاج میں دلچسپی لے رہا تھا۔میں چند دن کے لئے جابہ گیا ہوا تھا کہ وہاں مولوی احمد خان صاحب نسیم میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ مولوی صاحب کے دماغ کا آپریشن ہو۔میں نے انہیں کہا اُن کا آپریشن ہرگز نہ کرائیں۔کیونکہ جو علامات آپ بتارہے ہیں۔وہ ٹیومر کی نہیں بلکہ کینسر کی علامات ہیں اور کینسر میں آپریشن بڑا مہلک ہوتا ہے۔ہم آپریشن کروا کر اپنے ہاتھوں انہیں موت کے منہ میں دھکیلنے والے ہوں گے۔چنانچہ مولوی احمد خان صاحب نسیم واپس لاہور گئے اور انہوں نے ڈاکٹروں سے کہا کہ ہم نے ان کا آپریشن نہیں کروانا۔اسکے بعد مولوی صاحب کی حالت اور بھی خراب ہوگئی۔ڈاکٹر قاضی صاحب بڑی ہمدردی سے علاج کر رہے تھے۔ایک دن انہوں نے مریض کے سر سے کچھ مادہ لیا۔اور لیبارٹری میں جا کر خود ڈیڑھ گھنٹہ تک ٹیسٹ کیا اور بعد میں آکر کہنے لگے مریض کے دماغ میں ٹیومر نہیں بلکہ انہیں کینسر ہو گیا ہے۔جواب سارے سر میں پھیل چکا ہے۔ان کی زندگی بس دو چار دن کی ہے۔آپ چاہیں تو انہیں ہسپتال میں رہنے دیں اور چاہیں تو انہیں گھر لے جائیں تا اُن کے گھر والوں کے درمیان ان کی وفات ہو۔چند سال کی بات ہے ہمارے ایک احمدی دوست کو ایک بوٹی خواب میں بتائی گئی تھی۔(جسے سچی بوٹی کہتے ہیں) کہ یہ کینسر کے لئے مفید ہے۔ہم نے وہ بوٹی لاہور بھجوادی۔لیکن مشکل یہ ہوتی ہے کہ جب تک ڈاکٹروں کو مریض کے بیچ جانے کی امید ہوتی ہے۔وہ کسی دوائی کو ہسپتال کی حدود میں نہیں آنے دیتے جب وہ اسے لا علاج سمجھتے ہیں تو پھر وہ لکھ دیتے ہیں کہ جو چاہے اسے دو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔چونکہ مولوی عبد الکریم صاحب بھی لا علاج سمجھے جا رہے تھے اس لئے جب