تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 400 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 400

تاریخ احمدیت۔جلد 23 400 سال 1965ء بہت نیک اور اچھے آدمی تھے میری تقرری دھار یوال کے نزدیک بیری ننگل میں فرمائی۔وہاں میرے کئی ایک ہم قوم لوگ تھے جو میرے ساتھ بہت محبت کرتے تھے اور جس پٹواری کے ساتھ مجھ کو لگایا تھا وہ مسلمان امرتسر کا باشندہ تھا مگر احمدیت کا سخت دشمن تھا اور میرے ساتھ اس کا برتا ؤ ا چھا نہ تھا۔ماہ دسمبر میں موقعہ عید پر اور جمعتہ الوادع پر میں پہلی دفعہ قادیان گیا مگر افسوس کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان دنوں اکثر گورداسپور مقدمات کی وجہ سے رہا کرتے تھے۔میں زیارت سے مشرف نہ ہو سکا اور واپس بیری نگل آگیا۔چونکہ پٹواری نہر سخت مخالف تھا۔اس واسطے میں ضلعدار صاحب لالہ ڈو گریل صاحب کی خدمت میں قلعہ لال سنگھ پہنچا اور عرض کی کہ مجھے بجائے مسلمان پٹواری کے کسی ہندو پٹواری کے ساتھ لگایا جاوے۔چنانچہ ضلعد ا ر صاحب نے میری درخواست کو قبول فرما لیا اور مجھے ریلوے اسٹیشن چھینہ کے پٹواری منشی نتھو رام صاحب کے ساتھ لگا دیا اور چھینہ سے تھوڑی دور میری چازاد ہمشیرہ موضع شیر پور متصل ہر سیاں رہتی تھی۔جو قادیان سے ۴ یا ۵ میل کا فاصلہ ہے۔یہاں سے مجھے موقع مل گیا اور میں ہر جمعہ کو قادیان چلا جاتا اور شام کو واپس آجاتا اور اردگرد کے احمدی دوست بھی واقف ہو گئے۔خصوصاً سیکھواں والے مولوی امام الدین صاحب وغیرہ جنہوں نے مجھے ترغیب دی کہ جلدی بیعت کر لو۔چنانچہ ایک جمعہ پر قادیان پہنچ کر مولوی امام الدین صاحب یا جمال الدین صاحب نے میرے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بعد نماز جمعہ عرض کی کہ اس لڑکے کی بیعت لی جاوے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ عصر کی نماز کے بعد اور دیگر دوستوں کو کہہ دیا جاوے پھر عصر کی نماز کے بعد فرمایا کہ شام کی نماز کے بعد اور پھر شام کی نماز کے بعد فرمایا کہ عشاء کی نماز کے بعد۔چنانچہ عشاء کی نماز کے بعد مسجد مبارک میں جہاں عام طور پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام شد نشین ہوا کرتے تھے ، بیعت کنندگان کو بلایا۔میں آگے بڑھا اور حضور کے دست مبارک پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور کئی اور دوست بھی تھے جن کا نام یاد نہیں اور بیعت لی اور بیعت کے بعد میرے اندر کوئی ایسی لہر دوڑ گئی جیسے بجلی اثر کرتی ہے۔اس کے بعد میں ٹرینینگ پٹوار نہر پوری کر کے امتحان امرتسر دے کر واپس ملتان چلا گیا اور میرے چچا صاحب مرحوم نے میرے نام اپنے خرچ پر رسالہ ریویو آف ریجنز جاری کرا دیا جودوسال برابر ان کے خرچ پر میرے نام آتا رہا۔اس کے بعد میں خود اپنے خرچ پر مستقل خریدار ہو گیا اور اخبار بدر کا بھی خریدار بن گیا اور پھر عام طور پر جلسہ سالانہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں جاتا رہا اور فیضیاب ہوتا رہا۔