تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 401 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 401

تاریخ احمدیت۔جلد 23 401 سال 1965ء ایک جلسہ سالانہ غالب ۱۹۰۶ء یا ۱۹۰۷ ء کا تھا جس میں مسجد اقصیٰ میں سیڑھیوں کے پاس جنوب مشرق ایک کونے پر مکان تھا جو غیر احمدیوں کا تھا جن کے مکان پر چند ایک دوست بوجہ کثرت ہجوم چڑھ گئے اور مکان والوں نے برا بھلا کہا۔اس برا بھلا کہنے کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے کانوں سے سنا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نماز باجماعت فرض ظہر و عصر ادا کر کے تقریر شروع فرمائی۔اس وقت وہ تقریر ایسی جلالی رنگ رکھتی تھی جس میں حضور نے قادیان کے لوگوں پر احسانات کا تذکرہ فرمایا اور ان کی مخالفت کا ذکر فرمایا۔جس سے معلوم ہوتا تھا کہ اس وقت کوئی غضب الہی نازل ہونے والا ہے۔بعد خاتمہ تقریر جلسہ برخاست ہوا اور میں مسجد سے نکل کر چوک بازار میں مسجد کے پاس ہی آیا تھا کہ دو سکھ سردار جو ان پڑھ معلوم ہوتے تھے مگر تقریرین کر آئے تھے اور ذکر کر رہے تھے کہ بڑی عجیب تقریرتھی۔اگر ہم کو خبر ہوتی تو ہم ہر روز سننے کے لئے آتے۔اسی طرح ایک دن صبح کو میں اور میرے چچا زاد بھائی ( جہاں اب محلہ دارالرحمت ہے) جنگل گئے اور واپسی پر ہمارا خیال تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کبھی بازار کی طرف سیر کو جاویں۔تو کیا خوب ہو۔چنانچہ ہم مسجد مبارک کے نیچے والے دروازے میں جا کھڑے ہوئے کیونکہ حضرت مسیح موعود عام طور پر صبح کو سیر کے لیے جایا کرتے تھے اور خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم وکیل بھی دروازہ پر کھڑے تھے اور عام طور پر حضرت صاحب باہر کی طرف سیر کو جایا کرتے تھے مگر اس دن خواجہ صاحب نے فرمایا کہ حضرت! آج بازار کے راستہ سیر کو چلیں۔چنانچہ حضرت صاحب نے فرمایا کہ بازار کے راستہ چلو۔جب حضرت چوک بازار میں پہنچے اور لوگ آگے پیچھے دوڑتے ہوئے آگئے۔ایک شخص نے جو کسی دوسرے ملک کا باشندہ معلوم ہوتا تھا۔قدم بوسی کے لیے جھک گیا مگر میں پاس ہی کھڑا تھا۔حضرت صاحب نے اس کو کاندھے سے پکڑ اوپر اٹھا لیا اور فرمایا کہ دیکھومصافحہ کرنا چاہیے۔“ پھر حضرت صاحب بڑے بازار سے ہو کر شمال کی طرف کو سیر کو چل دیے۔بازار سے نکل کر دو رویہ قطاریں بنائی گئیں۔کیونکہ راستہ مشکل سے ملتا تھا۔ریتی چھلہ میں جہاں اب مشین یعنی کارخانہ ہے ایک درخت کھڑا ہے۔ان کے نیچے حضور آکر ٹھہر گئے اور آگے چلنے سے رُک گئے اور فرمایا کہ آج میں جماعت پر خوش ہوں۔اس کے بعد بمعہ خدام واپس آگئے۔حضرت منشی صاحب نے اپنی تمام زندگی داخل سلسلہ ہونے کے بعد جماعت کی خدمت میں گزار دی۔۱۹۳۸ء تک آپ محکمہ انہار میں ملازم تھے اس عرصہ میں ملتان، ڈیرہ غازیخان اور 51