تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 399
تاریخ احمدیت۔جلد 23 399 سال 1965ء میرے چچا صاحب مرحوم نے ایک ملاں ضعیف العمر اپنی لڑکیوں کی تعلیم کے واسطے رکھا ہوا تھا۔جس کو اردو پڑھنا نہیں آتا تھا اس کے ساتھ میں نے سمجھوتہ کر لیا کہ میں آپ کو اردو پڑھایا کروں گا آپ مجھے قرآن شریف پڑھایا کریں۔چنانچہ میں مکتب میں چلا جاتا اور چھوٹے چھوٹے بچوں سے قرآن شریف سنتا رہتا اور خود بھی ملاں صاحب سے پڑھتا رہتا۔چنانچہ میں نے قرآن شریف ختم کر لیا اور حضرت چچا صاحب مرحوم کے پاس تفسیر محمدی حافظ محم لکھو کے والے کی تصنیف تھی اس کو مطالعہ کرتارہتا اور کچھ فقہ کی کتب حضرت چچا صاحب مرحوم نے لڑکیوں کو پڑھانے کے واسطے منگوائی ہوئی تھیں، ان کو پڑھتا رہتا۔حتی کہ مجھے دینی شوق دن بدن بڑھتا گیا اور جوں جوں سلسلہ احمدیہ سے واقفیت ہوتی گئی۔توں توں خیالات بھی وسیع ہوتے گئے اور ملانوں کے ساتھ تبادلہ خیالات ہوتا رہا اور اگر میرے دل میں کوئی اعتراض پیدا ہوتا تو اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے اخبار الحکم میں انہی اعتراضات کا حل آجا تا اور میرا ایمان مضبوط ہوتا گیا۔سال ۰۲-۱۹۰۱ء میں بے کار رہا اور کوئی ملازمت کا سلسلہ بھی نہ بنا اور یہی شوق مطالعہ کتب و اخبار رہا۔گویا میرا حافظہ ایسا نہیں تھا کہ ہر ایک بات کو یاد رکھتا اور باوجوداس کے کہ میراعلم کچھ بھی نہ تھا مگر مخالفوں کی باتوں کا اس پر بالکل اثر نہیں ہوتا تھا۔غالباً شروع سال ۱۹۰۳ء میں میں نے خواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا اور بیعت بھی کی تھی جس سے شوق زیارت بڑھتا گیا اور میرے چچا مرحوم نے کوشش کر کے محکمہ نہر میں بعہدہ پٹواری نہر سال ۱۹۰۳ء میں ملتان میں ملازم کرا دیا اور میری تقرری بعہدہ پٹواری نہر شجاع آباد میں جولائی ۱۹۰۳ء کو ہو گئی۔اتفاق سے میں ملازم پٹوار ہی تھا کہ حکم آگیا کہ ان کو ٹرینگ پٹوار نہر کے لیے امرتسر بھیجا جائے اور میں سال ۱۹۰۱ء سے ۱۹۰۳ء تک گھر بھی نہیں گیا تھا اور قادیان جانے کا شوق بھی ضرور تھا۔چنانچہ احکام جاری ہو گئے اور مجھے امرتسر دوم ڈویژن میں غالباً ماہ نومبر کے اخیر میں جبکہ ماہِ رمضان المبارک تھا۔بھیجا گیا اور دوم ڈویژن اپر باری دوآب اُن دنوں گورداسپور سے لاہور تک تھا۔میری تقرری جناب ڈپٹی کلکٹر صاحب بہادر میر عبدالوحید صاحب نے لاہور ڈویژن میں فرمائی۔مگر میر صاحب بہت ہی نیک طبیعت کے تھے اور نمازی تھے اور قادیان میں بھی ان کا آفس تھا۔میں نے عرض کی کہ حضور میری تقرری تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور میں فرماویں تا کہ میں آسانی سے گھروں میں آجاسکوں۔چنانچہ جناب میر صاحب نے میرے عرض کرنے پر میری تعیناتی تحصیل بٹالہ ضلعداری سیکشن کنجر متصل دھر کوٹ بگہ فرمائی اور میں نے شکریہ ادا کیا۔سیکشن کنجر سے ضلعد ارصاحب لالہ ڈوگر مل صاحب نے جو