تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 398
تاریخ احمدیت۔جلد 23 اولاد 398 سال 1965ء سید محمد اقبال شاہ صاحب۔ڈاکٹر سید انور شاہ صاحب۔(الفضل ۵ فروری ۱۹۶۶ ء کے مطابق حضرت ڈاکٹر صاحب کے چار لڑکے اور دولڑکیاں ہیں۔) حضرت چوہدری غلام محمد سد حو صاحب آف پریم کوٹ ولادت :۱۸۶۳ء بیعت: (سن کی تعیین نہیں ہوسکی ) وفات : ۷ دسمبر ۱۹۶۵ء آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے اور احمدیت کے شیدائی اور بہت مخلص وجود تھے۔اولاد چوہدری محمد اسماعیل سدھو صاحب حضرت منشی سر بلند خان صاحب 49 ولادت: ۱۸۸۵ء بیعت : ۱۹۰۴ء وفات : ۹ دسمبر ۱۹۶۵ء حضرت منشی صاحب کو احمدیت سے دلچسپی پیدا کرنے کا موجب آپ کے چچا حضرت منشی گوہر علی صاحب تھے اور آپ کو بیعت کی تحریک حضرت میاں امام الدین صاحب سیکھوانی نے کی۔آپ نے ۲۶ اکتوبر ۱۹۳۸ء کو، جبکہ آپ ہیڈ منشی دفتر نہر ڈویژن مظفر گڑھ کے عہدے پر فائز تھے، اپنے قلم سے قبول احمدیت کے حالات لکھے۔جن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عہد مبارک کے بعض اہم واقعات بھی تھے۔آپ اپنی اس غیر مطبوعہ تحریر میں فرماتے ہیں کہ اس عاجز نے ور ٹینکر مڈل سکول ۱۹۰۱ء میں پاس کیا تھا اور اس کے بعد میں اپنے چچا صاحب مرحوم منشی گو ہر علی صاحب احمدی ( جو نہر سدھنائی تحصیل کبیر والا ضلع ملتان میں پٹواری تھے ) کے پاس چلا گیا۔چا صاحب مرحوم اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی تھے اور ان کے پاس اخبار الحکم، آیا کرتا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیف کردہ کتب بھی تھیں۔جن کو میں مطالعہ کیا کرتا تھا۔گومیں اصل باشندہ خاص کوٹلہ افغاناں تحصیل شکر گڑھ ضلع گورداسپور کا تھا اور صرف اتنا سنا ہوا تھا کہ امام مہدی علیہ السلام آگئے ہوئے ہیں۔مگر یہ کوئی پتہ نہیں تھا کہ کہاں آئے ہوئے ہیں؟ اور نہ ہی کوئی مذہبی معاملات سے دلچپسی تھی۔اخبار الحکم اور کتب کے مطالعہ سے چونکہ طبیعت میں انکساری اور خوف خدا کا مادہ تھا، دل یہی چاہتا تھا کہ فورا بیعت کر لینی چاہیے۔دوسری طرف ملانوں کا شور و غوغا اور مخالفت بھی زوروں پر تھی اور چنداں مذہب کی واقفیت نہ تھی اور قرآن شریف سے اس سے پہلے بالکل نا آشنا تھا۔