تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 397
تاریخ احمدیت۔جلد 23 397 سال 1965ء جگہ اپنے نیک نمونہ سے خیر سگالی کی فضا پیدا کرنے میں کوشاں رہے۔سلسلہ کے جس کام اور جس ضرورت کے لیے جب بھی اور جس وقت بھی تحریک کی گئی برابر حصہ لیتے اور بڑے شوق سے حصہ لیتے۔چندوں کی ادائیگی کا عرصہ دراز تک یہ طریق رہا کہ جنوری یعنی سال کے شروع میں سال کا پیشگی چندہ ادا کر دیتے۔وصیت کا، تحریک جدید کا اور اسی طرح بعض دوسرے چندے بھی مقامی ضروریات تبلیغ، تعمیر مساجد اور مشن ہاؤسز کی تعمیر میں دل کھول کر مالی امداد دیتے رہے۔گورنمنٹ کینیا کے محکمہ میڈیکل سے اسسٹنٹ سرجن ہو کر ریٹائر ڈ ہوئے اور ریٹائر ہونے کے بعد نیروبی میں پرائیویٹ پریکٹس شروع کر دی۔اپنے بیماروں کو معمول کے مطابق جا کر دیکھتے اور پھر ایک خاص وقت میں گھر پریکٹس کے لیے بیٹھتے۔بیماروں کو دیکھنے جب جاتے تو پیدل سارا سفر کرتے۔اپنے گھر میں پودوں کی دیکھ بھال خاص شغف سے کرتے۔اس سے ان کی ورزش بھی ہو جاتی اور صحت کے قائم رکھنے میں مدر ہی۔اپنے عرصہ ملا زمت میں جہاں جہاں بھی مقیم رہے ڈاکٹر صاحب موصوف شجر کاری کا خاص خیال رکھتے ان کا یہ محبوب مشغلہ تھا۔بلکہ بعض ایسے درخت جو حضرت ڈاکٹر صاحب مرحوم نے ہسپتالوں اور ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کے مکانوں کے آس پاس لگوائے ، ان کے لڑکوں نے ان کے پھل بھی کھائے۔ایک دفعہ نیروبی سے سومیل کے فاصلہ پر ایک نہایت ہی پر فضا جگہ نیری Nyeri میں ان کے لڑکے مرحوم ڈاکٹر سید انورشاہ صاحب کو ملنے گیا وہ اس جگہ کے ہسپتال کے انچارج لگے ہوئے تھے انہوں نے بتایا کہ حضرت ڈاکٹر صاحب نے یہ لوکاٹ کے درخت لگائے تھے اور اب میں اس کے پھل کھاتا ہوں۔سلسلہ کے لٹریچر میں جو مشرقی افریقہ میں تبلیغی لحاظ سے اور اسلام کی برتری و عظمت کو قائم کرنے میں بہت ہی مفید ثابت ہوا۔آپ اس کی اشاعت میں مالی امداد آپ دیتے رہے۔قرآن مجید کے سواحیلمی ترجمہ کشتی نوح کے سواحیلی ترجمہ میں آپ نے اور آپ کے بیٹوں نے بلکہ بعض بیٹیوں نے بھی حصہ لیا۔پرانے بزرگوں کی بالخصوص ان کے دل میں بہت قدر و عظمت تھی۔ان کا اکثر ذکر خیر کرتے۔سلسلہ کے خدام سے اختلاف ہوتا تو خاموشی سے اصلاح حال کی کوشش فرماتے۔پابند شریعت تھے۔بچوں کی دینی تعلیم و تربیت ذاتی توجہ اور کوشش سے کی ہے اور اپنے لڑکوں کو بچپن میں ہی قادیان بھجوا دیا۔چنانچہ قادیان کی تعلیم و تربیت کی برکت سے سب بچے سلسلہ کے خادم اور سلسلہ سے اخلاص رکھنے والے ہیں۔“